لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ چاروں صوبوں میں جاری دھرنے 25 کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں، حکمرانوں کی بے حسی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، اپوزیشن کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں،(ن) لیگ ، پی پی ، ایم کیو ایم کو عوام نے مسترد کیا ، ان کی نااہلی کی وجہ سے پمز میں 14 پھول جیسے بچے جان سے گئے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنا کے چودھویں روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، امیر لاہور ضیا الدین انصاری اور امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے تین ستمبر کے ملک گیر شٹرڈاؤن کا اعلان دہراتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ان پر شٹر ڈاؤن کے ساتھ پہیہ جام کا بھی پریشر آرہا ہے ، تاہم اس حوالے سے اہم اعلان وہ آج رات کو دھرنا سے خطاب کے دوران کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، کراچی اور پشاور کے علاوہ پٹرولیم لیوی ، آئی پی پیز اور مہنگائی کے خلاف دھرنے کوئٹہ ، چترال ، اندرون سندھ میں بھی پھیل گئے ہیں۔
راولپنڈی میں اتوار کو جلسہ ہوگا جب کہ اس کے بعد پشاور اور کراچی میں بڑے عوامی جلسے ہوں گے، اسلام آباد لانگ مارچ کی کال بھی جلد دی جائے گی اور ملک بھر سے عوام وفاقی دارلحکومت پہنچیں گے۔ اب تحریک کا دائرہ وسیع ہوچکا ہے اور ملک گیر احتجاجی کیمپ بھی لگائے جا رہے ہیں۔ طویل دھرنوں کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تحریک میں بھرپور شرکت کریں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر روزانہ پٹرول کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں، حالانکہ گزشتہ چند روز سے عالمی منڈی میں قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں۔ حکمران ڈھٹائی سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہے ہیں جبکہ خود عیاشیاں کر رہے ہیں۔ پٹرولیم لیوی غریب عوام سے وصول کیا جانے والا ”بھتہ ٹیکس” ہے، پٹرول پر لیوی سمیت شہریوں سے تقریباً 130 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
ایک طرف عوام کو لوٹا جارہا ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت کے اپنے اخراجات ایک کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں، حکمران عوام کے پیسوں سے بڑی اور مہنگی ترین گاڑیاں چلاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا۔پمز میں بچوں کی اموات کا حوالہ دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا پمز واقعے پر محض ایک استعفیٰ مسئلے کا حل نہیں، حکومت کو بتانا ہوگا کہ ایسے واقعات باربار کیوں پیش آتے ہیں۔ ملک میں بچوں کی غذائی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں، پوری قوم پر ایک ایسا طبقہ مسلط ہے جو نظام کو درست نہیں ہونے دیتا۔ اسی طبقہ نے پی ڈی ایم کی صورت میں بانی پی ٹی آئی کی چلتی حکومت گرائی ، یہ اپنے اس اقدام پر قوم سے کب معافی مانگیں گے؟ مسلط طبقے سے نجات کا راستہ آئینی اور جمہوری جدوجہد ہے۔
بجلی کے بحران پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز عائد کیے گئے ہیں جن کا بجلی کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 49٫500 میگاواٹ سے زیادہ ہے جبکہ ان دنوں کھپت 22 ہزار میگاواٹ سے زائد نہیں، اس کے باوجود لوڈشیڈنگ عروج پر ہے۔ تقریباً 50 فیصد بجلی کی پیداوار میں ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ اگر ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت طلب سے کہیں زیادہ ہے تو پھر شارٹ فال کیسے پیدا ہوا؟
حکمرانوں نے آئی پی پیز کو نوازا اور ٹرانسمیشن لائنوں کو بھی درست نہیں کیا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن اور عام آدمی کی جماعت ہے، اس کے کارکن مزدوری بھی کرتے ہیں اور دھرنوں میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ اپوزیشن عوامی مسائل پر جماعت اسلامی کا ساتھ دے ۔ حکمران عوام کے احتجاج کو سنجیدگی سے لیں، اگر کسی کو ہمیں اٹھانے کا شوق ہے تو پورا کرکے دیکھ لے، یہ تحریک رکنے والی نہیں۔









