خرم دستگیر 13

پیپلز پارٹی سے صرف ایک نشست کم، گلگت بلتستان میں (ن) لیگ حکومت بنائیگی’ خرم دستگیر کا دعویٰ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خرم دستگیر نے دعوی کیا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان صرف ایک نشست کا فرق رہ گیا ہے، (ن) لیگ ایک تہائی اکثریت حاصل کر چکی ہے اور حکومت بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صوبوں کو منتقلی کے لیے نہ تو کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور نہ ہی این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی لازمی ہے، بلکہ یہ کام باہمی اتفاقِ رائے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن)نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں براہِ راست 6نشستیں حاصل کیں جبکہ 2آزاد امیدواروں نے بھی مسلم لیگ (ن)میں شمولیت اختیار کی جس کے بعد پارٹی کی مجموعی نشستیں 8ہو گئی ہیں۔پیپلز پارٹی نے ابتدا میں 10نشستیں حاصل کی تھیں تاہم ایک حلقے میں دوبارہ گنتی کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن)کے امیدوار کی کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد کم ہو کر 9رہ گئی ہے۔24رکنی ایوان میں 8نشستیں حاصل کرنا ایک تہائی اکثریت کے مترادف ہے، اس لیے مسلم لیگ (ن)وہاں حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں موجود ہے۔

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے حتمی فیصلہ اعلی ترین سطح پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان مشاورت سے کیا جائے گا۔این ایف سی ایوارڈ اور وفاقی اخراجات پر بات کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ پڑوسی ملک کے ساتھ حالیہ کشیدگی، دفاعی ضروریات میں اضافے اور بیرونی قرضوں کے بوجھ کے باعث وفاق کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے پیش نظر این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیے جانے والے وسائل کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ کچھ اختلافات موجود تھے تاہم تعمیری مذاکرات کے بعد دونوں جماعتیں ایک متفقہ حل کے قریب پہنچ چکی ہیں یہی وجہ ہے کہ 12 جون کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے۔

خرم دستگیر نے انکشاف کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مختلف تجاویز پر کام ہو رہا ہے جن میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی آئینی و مالیاتی حیثیت سے متعلق امور بھی شامل ہیں، مستقبل میں ان خطوں کے مالی حصے اور وسائل کا تعین این ایف سی کے ذریعے ممکن بنایا جا سکے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ فی الوقت کوئی آئینی ترمیم فوری طور پر نہیں لائی جا رہی بلکہ بجٹ کی منظوری کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر 28ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں