محمد جاوید قصوری 15

پٹرولیم لیوی ظالمانہ ٹیکس، حکومت فوری واپس لے، عوام کو ریلیف دیا جائے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی عوام پر عائد کیا جانے والا ایک ظالمانہ بوجھ ہے، جس کے باعث مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، جماعت اسلامی لاہور سمیت پشاور، کراچی، کوئٹہ، سرگودھا، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، چترال ، دیر، حیدرآباد سمیت پاکستان کے 35 مختلف اضلاع اور مقامات پر پٹرولیم لیوی اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف دھرنے دے رہی ہے، جو عوامی حقوق کی جدوجہد کا تسلسل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور جب تک حکومت عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم نہیں کرتی، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ مذاکرات کو محض لیت و لعل، بہانے اور وقت گزاری کے لیے استعمال کرنے سے باز رہے ۔ اس کے نتائج حکومت کو خود بھگتنا پڑیں گے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 45 روپے فی لیٹر اضافہ عوام کے ساتھ سراسر زیادتی اور انتہائی تشویشناک اقدام ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ، بجلی، صنعت، زراعت اور روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں پر پڑتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایک طرف عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کیے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات پر مسلسل اضافی بوجھ ڈال کر مہنگائی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے نجی دورے کے لئے سرکاری جہاز کا استعمال سے حکومتی کفایت شعاری کی دھجیاں آڑ گئیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدن کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔ پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی عام شہری کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے، جبکہ 45 روپے کے قریب اضافہ عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ ہے۔ حکومت کو عوام کی مشکلات کا احساس کرنا ہوگا اور محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لے، پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرے اور عوام کو حقیقی اور فوری ریلیف فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق، سستی بجلی، سستا پٹرول، روزگار اور مہنگائی سے نجات کے لیے میدان میں موجود ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے عوام کو عملی ریلیف فراہم نہیں کرتی۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ عوام کی آواز سنے، مطالبات تسلیم کرے اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، بصورت دیگر عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں