پنجاب انفارمیشن کمیشن

پنجاب انفارمیشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کے خلاف تگڑا فیصلہ۔

شہبازاکمل جندران۔۔۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت عالیہ اپنی ویب سائٹ کو قانون کےمطابق اپ ڈیٹ کرے اور ویب سائٹ سے ڈاون لوڈنگ کو عوام الناس کے لئے عام کرے۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن
شہری سبطین افضل نے اپیل کرتے ہوئے کمیشن سے استدعا کی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ اسے ہائی کورٹ رولز کے والم 5 کی مصدقہ کاپی فراہم نہیں کررہی جبکہ عدالت عالیہ کی ویب سائٹ پر رولز کی سافٹ کاپی موجود ہے لیکن لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے عوام الناس کو ویب سائٹ پر موجود کسی بھی مواد کی ڈاون لوڈنگ سے قبل اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا ہے جو کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کی خلاف ورزی ہے۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن
کمیشن نے دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شہری کی درخواست منظور کی جاتی ہے ۔پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے سیکشن 4 کے تحت عدالت عالیہ اپنی ویب سائٹ میں اصلاح لائے اور قانون ہذا کے سیکشن 8 کے تحت معلومات کو الیکٹرانکلی پبلک کرے تاکہ عوام الناس استفادہ کرسکے۔