لاہور (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائلستان بن جانے کی سب سے بڑی وجہ ملک کے آئین ، قانون اور نظام عدل و سیاست سے بار بار کھلواڑ ہے ، اس بے حرمتی نے ہی گورننس کا بحران پیدا کیا ہے ، پاکستانی اشرافیہ اور مقتدرہ کی ارتکاز ِ اقتدار کی خواہش ِ بد ، اقربا پروری ، بد دیانتی ، خود پسندی ، انا اور خبط ِ عظمت نے ہمیں معاشی بدحالی ، لاقانونیت اور انتہاپسندی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے ۔
انہوں نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ مارشل لاء مائنڈ سیٹ ، اقتدار پرست سیاستدان ، نظریِ ضرورت والی عدلیہ ، مذہبی انتہا پسندی پھیلانے والے علمِ سو ، شاہانہ مزاج کی حامل بیوروکریسی ، مرغان ِ باد نما کا مزاج رکھنے والا میڈیا اس خرابات کے ذمہ دار ہیں ۔ اپنے نظریات ، جمہوری اصولوں اور عوامی وعدوں سے بار بار رو گردانی کرنے والی سیاسی قوتیں عوامی اعتماد کو اس حد تک مجروح کر چکی ہیں کہ انکے کلٹ فالورز اور ہارڈ کور سپورٹرز کے علاوہ کوئی ان پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ۔یہ ایک پریشان کن صورتحال ہے جسکے نتیجے میں خدانخواستہ حالات سبھوں کے قابو سے باہر ہو سکتے ہیں ۔ لازم ہے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے اور سیاسی قوتیں خود احتسابی کے عمل سے گزریں ،اصلاح ِ احوال کی سنجیدہ کوشش کریں اور اپنے سہانے خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر تلخ حقائق کا سامنا کریں ۔
سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ دہشت گردی ، سیاسی انارکی ، معاشی بدحالی اور ہر سو پھیلتی ناانصافی صرف اور صرف آئین و قانون کی حکمرانی پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہو گی ۔اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنا اور اپنے نظریات کو تسلیم کروانے کے لئے ہر قدم اٹھا لینا نئی مشکلات اور پیچید گیوں کی بنیاد رکھ دیتا ہے ۔ مخالفانہ موقف سننا ، پاکستان کو درپیش سلگتے مسائل پر کھل کر اور دلائل کے ساتھ مکالمہ کرنا اور تنازعات کا حل تلاش کرنے کی نتیجہ خیز کوشش کرنا ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لگتا ہے کہ یہ کام اب سول سوسائٹی ہی کو کرنا ہو گا ، تعلیم یافتہ اور شعور کے حامل افراد جماعتی اور گروہی سطحوں سے بلند ہو کر اپنے اپنے حلقِ اثر میں تھنکرز فورم اور اصلاحاتی گروپس تشکیل دیں ، مکالمہ کریں ، رائے قائم کریں اور بغیر کسی تعصب و خوف اپنی سوچ پبلک کریں ۔









