محمد حسنین 19

پاکستان کی نمائندگی، ہر کرکٹر کے لیے قابل فخر ہے،محمد حسنین

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان کے فاسٹ بولر محمد حسنین نے کہا ہے کہ تیز رفتاری میں بہتری، نئی گیند سے بولنگ، ڈیتھ اوورز میں مختلف انداز کی گیندیں اور فٹنس ان کے موجودہ تربیتی کیمپ کی بنیادی ترجیحات ہیں، جبکہ ان کا ہدف ڈومیسٹک سیزن میں عمدہ کارکردگی دکھا کر آئندہ ورلڈ کپ کی پاکستانی ٹیم میں واپسی ہے۔ پی سی بی پوڈکاسٹ کی قسط 88 میں میزبان شاہنواز رانا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد حسنین نے کہا کہ فاسٹ بولر کے لیے ردم اور سٹیمنا انتہائی اہم ہیں اور کیمپ میں ان پہلوئوں پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

انہوں نے نیشنل چیمپئنز کپ کے تجربے کو بھی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملتان کی شدید گرمی میں کھیلنا فاسٹ بولرز کے لیے ایک مشکل مگر مددگار تجربہ تھا اور انہوں نے ٹورنامنٹ میں اپنی سو فیصد کوشش کی۔ محمد حسنین نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا ہر کرکٹر کے لیے فخر کا لمحہ ہوتا ہے، اپنی تیز رفتار بولنگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ٹی وی پر سابق پاکستانی فاسٹ بولرز وقار یونس اور شعیب اختر کو دیکھ کر بڑے ہوئے اور ان کی رفتار نے ان کے اندر بھی تیز گیند کرانے کا جنون پیدا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعد میں وقار یونس کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنا اور ان کے ساتھ بولنگ پر کام کرنا خواب پورا ہونے جیسا تھا۔2019 کے پی ایس ایل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے پہلا میچ کھیلتے ہوئے ان پر کافی دبائو تھا، تاہم جب انہیں بتایا گیا کہ وہ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرارہے ہیں تو انہیں خود بھی یقین نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ فائنل میں مین آف دی میچ اور بہترین ایمرجنگ پلیئر کا اعزاز حاصل کرنا ان کے کیریئر کے یادگار لمحات میں شامل ہے۔

سری لنکا کے خلاف ہیٹ ٹرک کو یاد کرتے ہوئے فاسٹ بولر نے کہا کہ کم عمری میں ہیٹ ٹرک کرنے کا احساس انتہائی شاندار تھا، تاہم میچ کے دوران ڈیتھ اوورز میں ان کی تمام تر توجہ رنز روکنے پر مرکوز تھی۔

محمد حسنین نے اپنے بولنگ ایکشن میں تبدیلی کے مشکل مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ان کے ایکشن پر سوالات اٹھائے گئے تو انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اکیڈمی میں عمر رشید کے ساتھ کام کیا، پورا عمل مکمل کیا اور نئے ایکشن کے ساتھ اپنی سابقہ رفتار دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ریڈ بال کرکٹ کی اہمیت پر انکا کہنا تھا کہ طویل فارمیٹ میں بولرز کو لمبے سپیلز کرنے کا موقع ملتا ہے، جس سے بولنگ کی مہارت میں مزید نکھار آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ ڈومیسٹک سیزن کی بھرپور تیاری کررہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ عمدہ کارکردگی کے ذریعے ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم میں دوبارہ جگہ بنائیں۔ نوجوان کرکٹرز کو پیغام دیتے ہوئے محمد حسنین نے کہا کہ انہیں مشکلات اور چیلنجز سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا کرنا چاہیے اور زندگی یا کھیل میں کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں