ڈیلس (رپورٹنگ آن لائن)ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی کے اضافے کے ساتھ نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے اور ملک کو مضبوط بنانے کیلئے انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے اور موثر تیسرا بلدیاتی نظام قائم کرنا ہو گا۔
ڈیلس آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے نئے صوبوں، کراچی کی سیاسی و انتظامی حیثیت، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت، ایم کیو ایم کے ووٹ بینک، جماعت کی تقسیم اور حالیہ انتخابات سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس معاملے کو محض شور قرار دینا درست نہیں، آبادی میں اضافے کے ساتھ انتظامی اکائیوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے، جس طرح نئے اضلاع اور ڈویژنز بنائے جاتے ہیں اسی طرح صوبوں کی تعداد بڑھانے پر بھی بات ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایک مضبوط تھرڈ ٹیر آف گورنمنٹ کی ضرورت ہے تاکہ اختیارات اور جمہوریت کے ثمرات براہِ راست شہریوں تک پہنچ سکیں۔
خالد مقبول صدیقی نے موجودہ 4 صوبوں کے ڈھانچے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعوی کیا کہ لسانی بنیادوں پر قائم انتظامی تقسیم نے ملک میں پولرائزیشن، غلط فہمیاں اور فاصلے بڑھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان کو لسانی کے بجائے انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کی طرف جانا ہو گا۔کراچی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد شہر ملک کا دارالحکومت تھا اور بعد میں اسے سندھ میں شامل کرنے کے طریقہ کار پر تاریخی اور آئینی سوالات موجود ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایسے فیصلوں کو جمہوری طریقے، عوامی رائے اور آئینی عمل کے ذریعے زیرِ بحث لایا جانا چاہیے۔سندھ میں پیپلز پارٹی کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ پیپلز پارٹی نہ جمہوریت کی ٹھیکیدار ہے اور نہ سندھ کی مالک۔
انہوں نے سندھ کے موجودہ سیاسی نظام کو جاگیردارانہ طرزِ سیاست قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ صوبے کی معیشت میں کراچی بنیادی کردار ادا کرتا ہے، کراچی چلتا ہے تو پورا ملک پلتا ہے، کراچی کے خلاف سازش دراصل پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ایم کیو ایم کی تقسیم اور ماضی کے مقابلے میں جماعت کی سیاسی طاقت میں کمی سے متعلق سوال پر خالد مقبول صدیقی نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ ایم کیو ایم کا ووٹ بینک تقسیم ہو چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ سیاسی جماعتیں چند رہنماں کے الگ ہونے سے تقسیم نہیں ہوتیں جب تک کارکن اور عوام تقسیم نہ ہوں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کے 80 سے 90 فیصد کارکن اب بھی ایک ساتھ ہیں جبکہ جو لوگ جبر کے باعث الگ ہوئے، حالات تبدیل ہونے پر وہ بھی واپس جمع ہو سکتے ہیں۔2018 کے عام انتخابات کے حوالے سے خالد مقبول صدیقی نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ انتخابی ناانصافی ہوئی اور اس کی کئی نشستیں زبردستی چھینی گئیں۔جب ان سے براہِ راست پوچھا گیا کہ کیا الطاف حسین کے بعد ایم کیو ایم صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ ایم کیو ایم کسی سیاسی خاندان کی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے، یہ کوئی سیاسی خانوادے کی جماعت نہیں تھی، یہ ایک نظریاتی جماعت تھی، جو کارکنوں کے پاس ہے اور کارکن اسے چلا رہے ہیں۔
فارم 47 کے ذریعے ایم کیو ایم کی حالیہ انتخابی کامیابی کے الزام سے متعلق سوال پر انہوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم 4 دہائیوں سے کراچی میں انتخابات جیتتی آ رہی ہے اور اگر کسی کو انتخابی نتائج پر اعتراض ہے تو اسے عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے، ہماری پہچان فارم 47 نہیں، ہماری پہچان 1947 ہے۔انٹرویو کے دوران گفتگو اس وقت نسبتا تلخ ہوئی جب ایم کیو ایم کی تقسیم، الطاف حسین کی قیادت سے علیحدگی اور جماعت کے موجودہ ووٹ بینک سے متعلق مسلسل سوالات کیے گئے، خالد مقبول صدیقی نے متعدد سوالات پر اپنے مقف کا دفاع کیا۔








