وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

ٹیکس حدف بڑھاکر7470ارب روپے کردیا ،13سیکٹرز پر ایک سال کے لیے 10فیصد سپر ٹیکس لگے گا،وفاقی وزیر خزانہ

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ٹیکس حدف بڑھاکر7470ارب روپے کردیاہے،13سیکٹرز پر ایک سال کے لیے 10فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔سابقہ حکومت ملک کوڈیفالٹ کرنے جارہی تھی ہم نے ملک کو بچایاہے ،20سال میں اس طرح کسان دوست بجٹ کبھی نہیں آیاہے ،پی ٹی آئی کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے معیشت خراب ہوئی ہے،عمران خان نے توشہ خانہ کی گھڑیاں بیجنے کی وجہ سے 98لاکھ ٹیکس دیا، پیٹرول اور ڈیزل مہنگاکرنے پر اپوزیشن نے عوام کوورغلایا مگر عوام سڑکوں پر نہیں آئی ۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث سمیٹتے یوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی نے اچھے مشورے دیئے ہیں ۔ ان کی کچھ تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا ہے۔ کپاس کے بیج اور کھل پر ٹیکس ہٹادیا ہے ۔اس طرح کا کسان دوست بجٹ پچھلے 20سال میں نہیں آیا ۔ملک کو گندم میں خودکفیل کریں گے ۔ہم نے کسان کو سبسڈی نہیں اس پر سر مایہ کاری کی ہے ۔پچھلے سال بجٹ خسارہ بہت زیادہ کیا ہے ۔ کل5310ارب روپے کا بجٹ خسارہ کیا ہے بجٹ خسارہ 8فیصد ہے۔

یہ کسی خودمختاری ہے کہ قرض میں 20ہزار ارب روپے اضافہ کیا ہے اس سے تو ہم غلامی کی طرف جاتے ہیں ۔ سابق حکومت ملک کو ڈیفالٹ کی طرف لے کر گئے تھے ہم نے ڈیفالٹ سے ملک کو بچایاہے۔ اب ہم ترقی کی طرف جائیں گے ۔ پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی ختم کرنے پر سب نے ساتھ دیایہ مشکل فیصلے ہم نے لیںاس سے سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچے گا مگر سب نے کہاکہ پہلے پاکستان ہے اس کے بعد ہماری سیاسی ساکھ ہے ۔

آئی ایم ایف کا پروگرام شروع کرنا ضروری تھا۔ ہم نےغریب پر ڈائریکٹر ٹیکس نہیں لگایا ہے امیر کمپنیوں پر ٹیکس لگایا ہے ۔میں نے وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر زیادہ ٹیکس لگایا ہے میری کمپنیوں پر بھی زیادہ ٹیکس لگے گا ۔میری کمپنیاںپر 20کروڑ زیادہ ٹیکس لگاہے ۔ چھوٹی دکان پر 3ہزار اور بڑی دکان پر 10ہزار ٹیکس لگے گا سونے کی 300سے زائد دکانیں ہیں مگر صرف 20دکانیں رجسٹرڈ ہیں ۔ان پر 40ہزار فکس ٹیکس لگا دیا ہے ۔

سونے پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 1فیصد کردیا ہے ۔اس ٹیکس سے مہنگائی نہیں بڑھے گی مگر ہمارا خزانہ بڑجائے گا۔ 80لاکھ خاندانوں کو بے نظیرانکم سپورٹ سے2ہزار روپے دے دیئے ہیں جبکہ مزید 40لاکھ کے رجسٹریشن کے لیے میسج آگئے ہیں۔

عمران خان نے 4بجٹ پیش کئے جس میں تاریخ میں سب سے زیادہ بجٹ خسارہ کیا ۔ہم کل بجٹ خسارہ بھی کم کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ15کروڑ سے زیادہ آمدنپر 1فیصد اضافی ٹیکس ، 20کروڑ پر 2فیصد،25کروڑ پر 3فیصداور 30کروڑ پر 4فیصد اضافی ٹیکس لگے گا 13سیکٹرز پر 10فیصد سپر ٹیکس ایک سال کے لیے لگے گا ان سیکٹرز میںسیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، ،آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔عمران خان نے توشہ خانہ کی گھڑیاں بیجنے کی وجہ سے 98لاکھ ٹیکس دیاہے پلاٹوں پر ٹیکس سے شہدا ءاور جنگی غازیوں کو استثنیٰ دے دیاہے ۔فارما سوٹیکل کی تجاویز بھی ہم نے مان لی ہیں ۔

آئی ایم ایف میں نوکری کی ہے پاکستان کی معیشت کو اس سے پہلے اتنے چیلنج نہیں دیکھی جتنی آج ہے۔پی ٹی آئی کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے معیشت خراب ہوئی ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگاکرنے کے باوجود عوام سڑکوں پر نہیں آئے اس کے باوجود کہ ان کو ورغلایا گیا ۔ٹیکس حدف بڑ دیاہے اب7470ارب کا ٹیکس حدف ہوگیا ہے۔

قومی اسمبلی سٹاف کو 2 اعزازیے دیئے جائیں سینیٹ چیئرمین اپنے بجٹ سے سینیٹ ملازمین کو2اعزازیے دیں اس کے ساتھ پارلیمنٹ میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو2اعزازیے دیئے جائین دیاجائے۔انہوں نے کہاکہ فاٹااور پاٹا کے عوام کو انکم ٹیکس سے مستثنی دینے کے لیے بل لائیں گے ۔وزیراعظم سیگریٹ نوشی کے خلاف ہیں 70ارب اضافی ٹیکس لیں گے ۔ سیگریٹ کمپنیوں پر 10فیصد اضافی سپرٹیکس لگے گا۔