اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن )وزیراعظم کی ہدایت پر ملک کے 42 بڑے ٹیکس دہندگان کو خصوصی سفیر کا درجہ دیتے ہوئے انہیں بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی ۔ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ منظور شدہ بیشتر بلیو پاسپورٹس جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ حکومت ایسے کاروباری افراد کے لیے بھی خصوصی رنگ کے پاسپورٹس متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے جو ایک مخصوص حد سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے وزارتِ تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر )سے مشاورت جاری ہے۔
ڈی جی پاسپورٹس کے مطابق جلد ہی ملک بھر میں پاسپورٹس کی ہوم ڈیلیوری سروس بھی متعارف کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہری معمولی کورئیر فیس ادا کرکے اپنے پاسپورٹس گھر بیٹھے وصول کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک کورئیر کمپنی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور معاہدہ طے پاتے ہی یہ سہولت پورے ملک میں دستیاب ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے مرحلے میں اس سہولت کو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔محمد علی رندھاوا کے مطابق درخواست گزاروں کی رہنمائی کے لیے جلد ایک چیٹ بوٹ بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے شہری پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار، مطلوبہ دستاویزات اور اپنی درخواست کی موجودہ صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ادارے کے کال سینٹر پر بوجھ بھی کم ہوگا، جس کی استعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاسپورٹ درخواستوں کی آن لائن جمع کروانے کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ حکام یا تو نادرا کی پاک آئی ڈی طرز کی نئی ایپ متعارف کرانے یا موجودہ نادرا ایپ کا دائرہ کار بڑھا کر اس میں پاسپورٹ درخواستوں کی سہولت شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔مجوزہ نظام کے تحت شہری اپنے پرانے پاسپورٹ اور تصاویر ایپ کے ذریعے اپ لوڈ کر سکیں گے، جبکہ اگر مزید دستاویزات درکار ہوں تو انہیں ای میل کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے شہری دنیا کے کسی بھی حصے سے 24 گھنٹے درخواست جمع کرا سکیں گے اور افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ بھی کم ہوگا۔ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے مزید بتایا کہ 30 جون کے بعد پاسپورٹ فیس نیشنل بینک کی برانچوں میں جمع نہیں کرائی جائے گی۔ ا ن کا کہناتھاکہ مکمل کیش لیس نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ ایجنٹ مافیا کا کردار ختم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کو جاری کیے جانے والے ٹوکنز پر کیو آر کوڈ موجود ہوگا، جسے اسکین کرکے شہری اپنے موبائل فون کی بینکنگ ایپس کے ذریعے فیس ادا کر سکیں گے۔









