پیپلز پارٹی 14

وزیراعظم اپنی کابینہ کو کنٹرول کریں ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہوگا،بلاول بھٹو زر داری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم اپنی کابینہ کو کنٹرول کریں ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف بہت محنت سے اپنا کام کرتے ہیں، آزاد جموں و کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے سیاسی انداز میں کوشش کی گئی تاہم ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں،چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں ، کامیاب ہونگے تو صورتحال بہتر ہوگی،

اگر قوم اور تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں اور تمام مسائل کا مل کر مقابلہ کریں گے تو موجودہ جیوپولیٹیکل حالات میں پاکستان کیلئے موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ بدھ کو یہاں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ سب سے پہلے وہ وزیرِ خزانہ سے معذرت خواہ ہیں کیونکہ ہمارا ارادہ تھا کہ بجٹ کا عمل مکمل کیا جائے، میں نے بہت کوشش کی کہ تمام تقاریر مکمل ہوں اور ہم اس مرحلے تک پہنچ جائیں لیکن اتنے موضوعات کھول دیئے گئے کہ مجھے بھی اپنا موقف پیش کرنا پڑا۔

بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ میں دو مرتبہ خود وزیراعظم کو ووٹ دے چکا ہوں وہ جس محنت، کام کی اخلاقیات، نیت اور انداز کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن سے رابطہ رکھتے ہیں، اس سے واضح ہے کہ وہ مثبت انداز میں ملک کو مشکل حالات سے نکالنا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں لیکن کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کہ کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں، ایسے وزیر کیوں ہیں جو کہیں کہ راولاکوٹ کے شہری کشمیری نہیں، وزیراعظم کو اپنی ٹیم کو کنٹرول کرنا چاہیے، ایک وفاقی وزیرنے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وزیر کہے کہ ہم جیب میں 12سیٹیں لیکر آتے ہیں تو کیسے اس کا ساتھ دیں، راجہ پرویز اشرف نے خواجہ آصف کو اپنی بات واپس لینے کا موقع دیا، وزیر دفاع معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں تو اس وزیر کا ساتھ کیسے دیں؟۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ وزیراعظم مثبت انداز سے کام کرکے ملک کو مسائل سے نکالنا چاہتے ہیں، آزاد جموں و کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے سیاسی انداز میں کوشش کی گئی، ایک وزیر کچھ دوسرا کچھ بات کرتا ہے، وزیراعظم اس کو کنٹرول کریں ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ وہ رانا ثنا اللہ کی عزت کرتے ہیں، نواز شریف کا کشمیر کے ساتھ جو تعلق ہے، اس سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہاکہ آج اگر مولانا فضل الرحمان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، تو حکومت کو بھی ایسی پوزیشن اختیار کرنی چاہیے جس سے سیاسی راستہ نکل سکے۔ مولانا فضل الرحمان کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ متعلقہ فریقوں سے بات چیت کر کے اس مسئلے کا ایسا حل نکالیں کہ لوگوں کو بار بار احتجاج نہ کرنا پڑے اور کشمیر کاز بھی محفوظ رہے۔کراچی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ کراچی کے دوستوں کو بتاتا ہوں کہ آپ کے مسائل پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں کابینہ میں بیٹھے آپ کے ارکان کے ساتھ ہیں، آپ کے کابینہ میں بیٹھے دوست آپ سے غلط بیانی کر رہے ہیں،

پی ڈی ایم میں جو معاہدہ ہوا تھا اس میں آڑے خود ایم کیو ایم کے وزرا آئے، مجھ پر اور پیپلزپارٹی پر بیشک تنقید کریں مگر اپنے وزرا سے پوچھیں، آپ اگر سمجھتے ہیں کہ کراچی کے مسائل حل نہیں ہوتے آپ کو لالی پاپ مل رہا ہے تو آپ حکومت کو چھوڑیں اور الگ ہو جائیں، کیا کراچی زیادہ اہم ہے یا یہ کرسیاں زیادہ اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جہاں حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام ہیں، مسلم لیگ (ن )کو بلدیاتی الیکشن سے خوف ہے، کراچی میں جو بلدیاتی نظام ہے وہ ذرا لاہور میں بھی لائیں، آپ آئین کی بات کرتے ہیں،

ترامیم کرتے ہیں مگر اسلام آباد میں بھی بلدیاتی نظام نہیں، آپ اسلام آباد کا بلدیاتی نظام ایسالائیں تاکہ ہمیں رشک ہو اسلام آباد کا میئر زیادہ با اختیار ہو، میں مطالبہ کرتا ہوں پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، گلگت بلتستان میں حکومت بن چکی ہے، 90 روز میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے۔انہوںنے کہاکہ حکومت سے کہتا ہوں کہ آپ عاشور سے پہلے بجٹ منظور کرائیں، کل سے ہمارے ارکان نہیں ہونگے، اب آپ کی مرضی ہے یہاں بحث کراتے ہیں یا پھر بجٹ کی منظوری، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں کیونکہ وہ کامیاب ہونگے تو صورتحال بہتر ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں