برجیس طاہر 17

نئے صوبے نہیں، عام آدمی کے حالات بہتر بنانا اصل مسئلہ ہے’چوہدری برجیس طاہر

سانگلہ ہل(رپورٹنگ آن لائن )سابق گورنر و وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمد برجیس طاہر نے کہا ہے کہ ملک کے اصل مسائل نئے صوبے بنانا نہیں بلکہ عام آدمی کے حالات بہتر بنانا ہیں، آج غریب، انصاف، مزدور اپنی محنت کا صلہ اور نوجوان میرٹ پر روزگار مانگ رہا ہے مگر افسوس کہ اس کی آواز اقتدار کی ایوانوں میں سنائی نہیں دے رہیمملک کے نوجوان اور سیاستدان بیرونِ ملک جا رہے ہیں، ہر سال سینکڑوں نوجوان خطرناک راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں جانیں گنوا دیتے ہیں اور ان کے والدین کو اپنے بچوں کی لاشیں دیکھنا پڑتی ہیں۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان آگ میں جل رہا ہے، خیبر پختونخوا کے حالات بھی تشویشناک ہیں جبکہ پنجاب میں نئے صوبے بنانے کی تیاریاں اور 20، 25صوبوں کی افواہیں افسوسناک صورت اختیار کر چکی ہیں۔ اصل ایشو یہ نہیں کہ کتنے صوبے بنائے جائیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم ہو، غریب کو انصاف ملے، مزدور کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے اور ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے دربدر پھرنے والے نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار دیا جائے۔چوہدری محمد برجیس طاہر نے کہا کہ اگر 1973ء کے آئین پر عمل نہ کیا گیا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ آج ہر شخص آگے بڑھنے کی دوڑ میں شامل ہے، سیکرٹری گورنر بننے کے خواب دیکھ رہا ہے لیکن مزدور اور کسان کے حالات دن بدن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر عام آدمی کی ضرورت کے مطابق مسائل حل نہ کیے گئے، عدالتوں سے انصاف نہ ملا اور نوجوانوں کو روزگار نہ دیا گیا تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلیمی ادارے، ٹریننگ سینٹرز اور یونیورسٹیاں قابلِ رحم حالت میں ہیں۔ دنیا کی بڑی جامعات میں پاکستان کا نام نمایاں نہیں، جبکہ جو اچھے کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں ان کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ حالات سے تنگ نوجوان روزگارکے لئے دربدر ہیں یا ملک چھوڑنے کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ خطرناک سمندری اور زمینی راستوں سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش میں نوجوان مر رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان کی طرف توجہ کون دے گا؟۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برادر ملک بنگلہ دیش کا ٹکا اور افغانستان کی کرنسی بھی پاکستانی روپے کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم آخر کس سمت جا رہے ہیں۔ ملک کے ساتھ مذاق بند کیا جائے اور معیشت کو بہتری کی طرف لے جانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہر طرف کرپشن اور مفادات کی سیاست نظر آ رہی ہے، بڑے بڑے مفادات رکھنے والوں سے کوئی سوال نہیں کرتا جبکہ چھڑی صرف عام آدمی کے گرد گھومتی ہے۔ آمدنی کے ذرائع بہتر بنائے بغیر اور عام شہری کی زندگی آسان کیے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمیں اپنے مسائل کا ذمہ دار صرف سسٹم کو قرار دینے کے بجائے یہ سوال بھی کرنا ہوگا کہ سسٹم کو ٹھیک کون کرے گا؟۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں، لیکن عام آدمی کے دکھ، مزدور کی پریشانی، کسان کی بدحالی اور نوجوان کی بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا مستقبل نئے صوبوں کے نعروں میں نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، میرٹ، انصاف، روزگار اور عام آدمی کی خوشحالی میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں