موٹر سائیکل 16

موٹر سائیکلوں کی فروخت نئی بلند ترین سطح پر، سالانہ فروخت 19 لاکھ 30 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئی

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)پاکستان میں مالی سال 2025ـ26 ٹو اور تھری وہیلر انڈسٹری کے لیے غیرمعمولی کامیابی کا سال ثابت ہوا، جہاں موٹر سائیکلوں کی سالانہ فروخت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ بہتر معاشی سرگرمیوں، صارفین کے اعتماد میں اضافے اور طلب میں نمایاں بہتری کے باعث دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت پہلی مرتبہ 19 لاکھ 30 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئی، جس سے مالی سال 2020ـ21 کا سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

صنعتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025ـ26 کے دوران موٹر سائیکل انڈسٹری نے دو سال کی سست روی کے بعد بھرپور بحالی کا مظاہرہ کیا۔ مالی سال 2022ـ23 اور 2023ـ24 میں بلند مہنگائی، شرح سود اور قوتِ خرید میں کمی کے باعث فروخت متاثر ہوئی تھی، تاہم گزشتہ مالی سال کے دوران معاشی استحکام اور مارکیٹ میں طلب کی بحالی نے صنعت کو نئی رفتار فراہم کی۔رپورٹ کے مطابق صارفین کی جانب سے موٹر سائیکلوں کی خریداری میں نمایاں اضافے نے نہ صرف ٹو وہیلر مارکیٹ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ آٹو انڈسٹری کی مجموعی کارکردگی پر بھی مثبت اثرات مرتب کیے۔

ماہرین کے مطابق موٹر سائیکل پاکستان میں عام شہری کے لیے سب سے سستا اور قابلِ رسائی ذریعہ? نقل و حمل ہے، جس کی وجہ سے معاشی حالات میں بہتری کے ساتھ اس کی طلب میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔کمپنیوں کی کارکردگی میں اٹلس ہونڈا نے ایک بار پھر مارکیٹ میں اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 2025ـ26 کے دوران 16 لاکھ 90 ہزار موٹر سائیکلیں فروخت کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا، جو مجموعی فروخت کا سب سے بڑا حصہ ہے۔دوسری جانب تھری وہیلر سیکٹر میں بھی مثبت رجحان برقرار رہا۔

سازگار انجینئرنگ نے مارکیٹ لیڈر کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 2025ـ26 میں 28 ہزار 600 تین پہیہ گاڑیاں فروخت کیں، جس سے اس شعبے میں بھی طلب میں استحکام کا اظہار ہوتا ہے۔ماہرین نے کہاکہ اگر معاشی استحکام برقرار رہا، شرح سود میں مزید کمی آئی اور صارفین کی قوتِ خرید بہتر ہوتی رہی تو رواں مالی سال کے دوران بھی ٹو اور تھری وہیلر مارکیٹ میں ترقی کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ مالی سال 2025ـ26 کو مجموعی طور پر پاکستان کی ٹو وہیلر انڈسٹری کی تاریخ کا کامیاب ترین سال قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں