حافظ نعیم الرحمن 17

ملک میں ظالمانہ ٹیکس نظام، صرف مفادات کیلئے نورا کشتی جاری ہے، حافظ نعیم

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں صرف ظالمانہ نظام ہے، پی ڈی ایم کی جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ صرف مفادات حاصل کرنے کے لیے نورا کشتی کی جاتی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا گیا، یہ خود ہی بتاتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے، بتایا جاتا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجلی، پیٹرول اورگیس کی قیمتوں کا عوام پر براہ راست اثر پڑتا ہے، آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ پیٹرولیم لیوی کو بنا لیا گیا ہے، کسان کے حالات مخدوش ہیں، بجٹ صرف اعدادو شمار کو ادھر ادھرکرنے کا کھیل ہے۔

حافظ نعیم نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کو فوری ختم کیا جائے، سرکار میں 13سو سی سی گاڑیاں رکھی جائیں، انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں سالانہ 12، 13 سو ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جو چیز ہمارے دفاع کے لیے لازمی ہے عوام قربانی دینے کو تیار ہے، جس مقصد کے لیے لیوی لگائے جاتی ہے اس پر خرچ نہیں ہوتی،انہوں نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں کہ کیپسٹی پیمنٹس کو کم کرنے کے لیے بجٹ میں کیا اقدامات تجویز کیے گئے۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ اصل میں پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی طبقے کی حکومت ہوتی ہے، 79 سال سے پاکستان میں ایک ہی طبقہ حکومت کر رہا ہے جبکہ پاکستان پر 85 ہزار ارب روپے کا قرض چڑھ چکا ہے، 800 ارب سے زائد قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سارے پیسے وہ لوگ ادا کریں گے جو غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بڑی تحریک چلانا ہوگی، لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے حقوق پر کس طرح ڈاکہ مارا جا رہا ہے، تعلیم کا بجٹ اعشاریہ 8 فیصدرکھا گیا ہے جبکہ سکولوں اور ہسپتالوں کوآؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ سرکاری ملازمین پریشان ہیں اور نجی اداروں کے ملازمین کا تو کوئی حال ہی نہیں ہے، اس بجٹ میں عام لوگوں اور غریبوں کے لیے کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں