سندھ ہائی کورٹ 18

مرتضیٰ بھٹو قتل کیس، ملزمان کی بریت کیخلاف اپیلوں کی سماعت، سندھ ہائی کورٹ کے اہم سوالات

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ میں مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت ہوئی، عدالت نے مرحوم پولیس افسر شاہد حیات کی مقدمے میں حیثیت اور ان کے بھائی کی جانب سے اپیل کی پیروی سے متعلق اہم قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ مرحوم پولیس افسر شاہد حیات کی مقدمے میں کیا پوزیشن تھی؟ اگر وہ ایک مقدمے میں بری ہوچکے ہیں تو ان کی اپیل کیوں موجود ہے اور ان کے بھائی کی درخواست کس بنیاد پر زیر سماعت ہے؟وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مرتضیٰ بھٹو اور دیگر کی ہلاکت کے سلسلے میں 2 مقدمات درج ہوئے تھے۔ ایک مقدمے میں شاہد حیات بری ہوچکے ہیں جبکہ دوسرے مقدمے میں ان کی اپیل زیر سماعت ہے۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا مدعی کے انتقال کے بعد اس کا بھائی مقدمے کی اپیل دائر کرکے پیروی کرسکتا ہے؟

اس موقع پر وکیل عامر منسوب نے مؤقف اختیار کیا کہ اسی نوعیت کا قانونی سوال نقیب اللہ قتل کیس میں بھی سامنے آیا ہے، اس لیے دونوں مقدمات کو ایک ساتھ کردیا جائے۔وکیل نے مزید کہا کہ مقدمے کی پیروی کا حق اولاد یا بیوہ کے بجائے بھائی کو حاصل ہونے کا جواز بھی واضح ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ مرتضیٰ بھٹو کو 20 ستمبر 1996 کو کراچی میں دو تلوار کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد دو مقدمات درج ہوئے تھے، ایک مقدمہ سرکار کی مدعیت میں جبکہ دوسرا مرتضیٰ بھٹو کے اہلخانہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا تھا، جس کے خلاف اپیلیں سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ عدالت نے درخواستوں پر مزید سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں