لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور نہنگ نے لیبیا کشتی حادثہ کے مقدمے میں گرفتار ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت سے معذرت کرتے ہوئے کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی۔
جسٹس غلام سرور نہنگ نے ملزم شفاقت علی کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ وہ لیبیا کشتی حادثہ کے لیے بنائے گئے کمیشن میں بطور رکن اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں، اس لیے مناسب نہیں سمجھتے کہ اسی معاملے سے متعلقہ ضمانت کی درخواست پر سماعت کریں۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملزم شفاقت علی ایک سال دو ماہ سے جیل میں قید ہے، تاہم ابھی تک اس پر جرم ثابت نہیں ہوا، ملزم کی متعدد مقدمات میں درخواست ضمانت بھی منظور ہو چکی ہے، درخواست گزار نے بتایا کہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہے، لہذا ٹرائل کورٹ کے فیصلے تک ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔
سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف انسانی سمگلنگ کے تیس مقدمات درج ہیں، لیبیا کشتی حادثہ کے بعد ایف آئی اے منڈی بہاوالدین نے ملزم کے خلاف مقدمات درج کیے، ملزم پر الزام ہے کہ اس نے لوگوں کو یورپ بھجوانے کے لیے کشتی میں سوار کروایا، جس کے بعد لیبیا میں کشتی الٹنے سے بڑی تعداد میں پاکستانی نوجوان ہلاک ہوئے۔سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم سنگین نوعیت کے الزامات میں ملوث ہے اور کسی رعایت کا مستحق نہیں، لہذا اس کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کی جائے، جسٹس غلام سرور نہنگ نے درخواست پر سماعت سے معذرت کرتے ہوئے کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی تاکہ درخواست کو کسی دوسرے مناسب بینچ کے سامنے مقرر کیا جا سکے۔









