ہائیکورٹ 17

لاہور ہائیکورٹ کا روڈا کو بڑا ریلیف، آئینی درخواست خارج کر دی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا)کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے روڈا کے خلاف دائر آئینی درخواست خارج کر دی جبکہ سول کورٹ میں زیر سماعت ریفرنس کی کارروائی رکوانے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے شہری طیب نور کی درخواست پر سماعت کی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر ابتدائی اعتراضات اٹھائے۔،درخواست گزار کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ سول کورٹ میں روڈا کے ایوارڈ کے خلاف زیر سماعت دعوے کی کارروائی روکی جائے۔ ان کا موقف تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کا سابقہ فیصلہ ان کے حق میں موجود ہے اور سپریم کورٹ کے حکمِ امتناع کا اطلاق ان کے مقدمے پر نہیں ہوتا۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں جانے کے بعد ہائیکورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر سول کورٹ کی کارروائی نہیں روکی جا سکتی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر ہونے کے بعد معاملہ آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آ چکا ہے، اس لیے کسی بھی حکمِ امتناع کی تشریح صرف آئینی عدالت ہی کر سکتی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ عدالت آئینی عدالت کا کردار اپنا لے؟۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ اگر حکمِ امتناع کی تشریح یا اس پر کوئی اعتراض موجود ہے تو متعلقہ فورم یعنی آئینی عدالت سے رجوع کیا جائے۔عدالت نے واضح کیا کہ وہ سول کورٹ میں زیر سماعت دعوے میں مداخلت نہیں کر سکتی لہٰذا کارروائی روکنے کی استدعا قابلِ قبول نہیں۔فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے شہری طیب نور کی روڈا کے خلاف دائر آئینی درخواست خارج کرتے ہوئے سول کورٹ کی کارروائی جاری رکھنے کی راہ ہموار کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں