ہائیکورٹ 20

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کو سول ایوارڈ دینے کے خلاف درخواست خارج کر دی

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کو سول ایوارڈ دینے کے خلاف درخواست خارج کر دی۔ جسٹس احمد ندیم ارشد نے قرار دیا کہ تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کو آئینی طور پر سول ایوارڈ کیلئے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین، پبلک آفس ہولڈرز سمیت دیگر افراد کو پبلک سروس کے شعبے میں سول ایوارڈز دینے کے خلاف درخواست خارج کر دی، جسٹس احمد ندیم ارشد نے درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 259(2) میں پبلک سروس کو صرف بلا معاوضہ یا رضاکارانہ خدمات تک محدود نہیں کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کو محض اس بنیاد پر آئینی طور پر سول ایوارڈ کیلئے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا، کسی شخص کا سرکاری عہدے پر فائز ہونا یا سرکاری ملازمت کرنا بذاتِ خود اسے سول ایوارڈ کا حقدار بھی نہیں بناتا، تاہم غیر معمولی عوامی خدمت انجام دینے والے سرکاری ملازمین کو صرف تنخواہ لینے کی بنیاد پر ایوارڈ کے دائرے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان میں سول ایوارڈز کیلئے پبلک سروس ایک الگ شعبہ ہے اور اس شعبے کیلئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو متعلقہ نامزدگی کا ادارہ مقرر کیا گیا ہے، سول ایوارڈز کیلئے سکروٹنی کمیٹیاں، ایوارڈ ریکمنڈنگ کمیٹیاں اور مین ایوارڈز کمیٹی مقررہ طریقہ کار کے تحت کام کرتی ہیں۔عدالت کے مطابق پبلک سروس کے ایوارڈ کیلئے صرف معمول کی سرکاری ملازمت کی انجام دہی کافی نہیں بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی اور مقررہ ذمہ داریوں سے بڑھ کر انجام دی گئی خدمات کو بھی دیکھا جاتا ہے، انصاف، دیانتداری، غیر جانب داری اور کردار کی ساکھ بھی پبلک سروس ایوارڈ کے معیار میں شامل ہیں، عدالت نے روٹین ملازمت کی کارکردگی اور غیر معمولی عوامی خدمت کے درمیان واضح فرق قرار دیا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 259(2) میں پبلک سروس کو شامل کیا گیا، تاہم آرٹیکل 259(3) تمام سابقہ سول ایوارڈز کو ازخود منسوخ قرار نہیں دیتا، 21 اکتوبر 2024 سے قبل دیئے گئے تمام سول ایوارڈز کو صرف آئینی ترمیم کی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی مخصوص ایوارڈ کے معاملے میں اگر بدنیتی، اختیار سے تجاوز یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو عدالت اس انفرادی اقدام کا جائزہ لے سکتی ہے، تاہم عمومی الزامات یا قیاس کی بنیاد پر پورے سول ایوارڈز کے نظام کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔تحریری فیصلے کے مطابق کسی تیسرے فریق کو محض آئینی درخواست دائر کر کے صدرِ مملکت سے کسی دوسرے شہری کا سول ایوارڈ واپس لینے یا منسوخ کرنے کا حق حاصل نہیں، قانونی بنیاد موجود نہ ہونے کی صورت میں صدر یا متعلقہ حکام کو ایوارڈ واپس لینے، ضبط کرنے یا منسوخ کرنے کی ہدایت بھی نہیں کی جاسکتی۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ عدالت پالیسی بنانے والے ادارے کی جگہ خود پالیسی ساز کا کردار ادا نہیں کرسکتی، آئین کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق سلوک کی ضمانت دیتا ہے، تاہم یہ شق عدالت کو حکومتی پالیسی کے معیار طے کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ درخواست میں عمومی، ماضی پر لاگو ہونے والی اور پالیسی تبدیل کرنے والی ریلیف طلب کی گئی، جبکہ درخواست میں کی گئی استدعائیں قانونی طور پر ناقابلِ قبول اور قابلِ عمل نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست کو ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں