اسحاق ڈار 21

فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی غیر متزلزل ہے نائب وزیر اعظم

نیویارک (رپورٹنگ آن لائن)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برادر اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی کاز کو آگے بڑھانے اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے فروغ کے لیے کام جاری رکھیں گے، غزہ کی تعمیر نو اور حکمرانی کے انتظامات فلسطینی قیادت میں ہونے چاہئیں جن میں فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار ہو۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر فلسطین سے متعلق او آئی سی کمیٹی آف سکس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی کیلئے سیکرٹری جنرل کے لیے اتفاق رائے سے انتخاب پر اسماعیل شیخ محمد کو مبارکباد دی ۔انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور غزہ تنازعہ کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے کے لیے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا، جس کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے کی گئی ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے مسجد اقصیالحرم الشریف میں اسرائیل کی جانب سے جاری خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے سمیت مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں، آبادکاروں کے تشدد اور الحاق پر مبنی اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور او آئی سی کی جانب سے نئی اور مربوط سفارتی کارروائی پر زور دیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے غزہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور خلوص کے ساتھ عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو اور حکمرانی کے انتظامات فلسطینی قیادت میں ہونے چاہئیں، جن میں فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار ہو، اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کا مطالبہ کیا۔انہوں نے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، اور فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال او آئی سی اور اس کے رکن ممالک کی جانب سے نئی اور مربوط سفارتی کارروائی کا تقاضا کرتی ہے،کمیٹی آف سکس کو ان ترجیحات کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں،اول مسجد اقصیالحرم الشریف اور القدس میں تمام اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو محفوظ بنانا، دوم ،مقبوضہ فلسطینی علاقے بشمول مشرقی القدس میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری میں توسیع، الحاق پسند اقدامات، آبادکاروں کے تشدد اور جبری بے دخلی کو مسترد کرنا،سوم،غزہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور دیانتدارانہ عملدرآمد کی حمایت کرنا،چہارم ،اس بات کو یقینی بنانا کہ غزہ میں تعمیر نو اور طرز حکمرانی کے انتظامات فلسطینی قیادت میں ہوں اور فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار ہو، پانچویں، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کی حمایت کرنا،

چھٹے ،اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی عوام کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو مضبوط بنانا اور آخر میں، ایک قابلِ اعتماد، ناقابل واپسی اور مقررہ مدت کے سیاسی عمل کی جانب مسلسل بین الاقوامی کوششوں کو برقرار رکھنا، جس کے نتیجے میں 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر قابلِ قبول فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو جبکہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی حمایت بھی جاری رکھی جائے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کمیٹی آف سکس کے ارکان کی حیثیت سے ہم پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنی اجتماعی یکجہتی کو مستقل اور مربوط سفارتی اقدامات میں تبدیل کریں۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی ثابت قدم اور غیر متزلزل ہے، برادر اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی کاز کو آگے بڑھانے اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے فروغ کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں