لاہور(رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ کا غیرت کے نام پر قتل کے مقدمہ کا اہم فیصلہ، جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے غیرت کے نام پر 18 سالہ لڑکی کو قتل کرنے کے مقدمے میں راضی نامہ مسترد کرتے ہوئے 2 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔
جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے قرار دیا کہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا، قانون کسی شخص کو غیرت کے نام پر کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے قرار دیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں فریقین کے درمیان سمجھوتہ یا مدعی اور گواہوں کا اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہونے کا حلف نامہ ملزمان کو ضمانت کا فائدہ نہیں دے سکتا کیونکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے، عدالت نے قرار دیا کہ قانون یا مذہب کسی شخص کو ”غیرت” کے نام پر کسی دوسرے انسان کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا اور ایسے فعل کو قتل تصور کیا جاتا ہے۔
جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے محمد ناصر اور پرویز کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود شواہد بادی النظر میں ملزمان کو مقدمے میں ملوث کرتے ہیں اور الزامات ایسے جرائم سے متعلق ہیں جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کی ممانعتی شق میں آتے ہیں، عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کے مرحلے پر کیے گئے مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں اور ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمان کے خلاف تھانہ کوٹ مٹھن، ضلع راجن پور میں 11 جون 2021 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 311، 109 اور 34 شامل کی گئیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر شریک ملزمان کے ساتھ مل کر تقریباً 17،18 سالہ نجماں مائی کو 30 بور پستول سے فائرنگ کر کے قتل کرنے کا الزام ہے، پولیس کو مخبر سے اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد مقتولہ کی لاش ملی تھی، ملزمان کے وکیل محمد شہزاد فرید لنگڑیال نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزمان بے گناہ ہیں اور انہیں مدعی نے مقدمے میں جھوٹا ملوث کیا۔وکیل کے مطابق مقتولہ کی والدہ کنیز مائی سمیت عینی شاہدین ربنواز اور محمد سلیم نے حلف نامے جمع کرائے ہیں جن میں انہوں نے استغاثہ کے مؤقف سے انحراف کیا ہے اور اپنے بیانات بھی حلف ناموں کی پشت پر قلمبند کیے ہیں، ملزمان کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں، ان کے خلاف عمومی نوعیت کے الزامات ہیں اور وہ گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں، عدالت سے استدعا کی گئی کہ حالات و شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ملزمان کو بعد از گرفتاری ضمانت پر رہا کیا جائے۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب محمد عبدالودود نے درخواست ضمانت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ملزمان ایف آئی آر میں نامزد ہیں اور ان پر واضح اور مخصوص کردار عائد کیے گئے ہیں۔پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان نے پہلے بھی ٹرائل کورٹ سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کی جو 11 ستمبر 2023 کو خارج ہوگئی، جس کے بعد انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تاہم یہ درخواست بھی 26 ستمبر 2023 کو عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہوگئی۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعیہ اور گواہوں کے منحرف ہونے سے متعلق حلف نامے ملزمان کو ضمانت کا فائدہ نہیں دے سکتے،
خصوصاً اس لیے کہ حلف نامہ دینے والے بعض افراد ملزمان کے قریبی رشتہ دار ہیں، پراسیکیوشن کے مطابق مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت غیرت کے نام پر قتل اور دفعہ 302 کے تحت قتل کا ہے، جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کی ممانعتی شق میں آتے ہیں، مزید بتایا گیا کہ مقدمے میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی ملزم محمد ناصر سے برآمد ہوا، پراسیکیوشن نے عدالت سے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی۔جسٹس سید فرہاد علی شاہ فیصلے میں قرار دیا کہ ملزمان ایف آئی آر میں نامزد ہیں اور ان پر مقتولہ نجماں مائی کو 30 بور پستول سے فائرنگ کر کے قتل کرنے کا مخصوص الزام ہے جبکہ شریک ملزمان عبد الکریم اور غلام مرتضیٰ پر قتل میں اعانت کا الزام ہے،
پراسیکیوشن کے مؤقف کی تائید گواہوں کے بیانات، طبی شواہد اور ملزم محمد ناصر سے برآمد ہونے والے 30 بور پستول سے بھی ہوتی ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ ملزمان ایک طویل عرصے تک قانون سے مفرور رہے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں اشتہاری قرار دیا گیا جبکہ ٹرائل کورٹ میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 512 کے تحت رپورٹ بھی جمع کرائی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ اشتہاری قرار پانے والے شخص کو ضمانت کے حوالے سے بعض معمول کی رعایتیں حاصل نہیں رہتیں، ریکارڈ کے مطابق دونوں ملزمان کی ابتدائی قبل از گرفتاری ضمانتیں خارج ہونے کے بعد انہیں 27 مارچ 2026 کو گرفتار کر کے جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا گیا تھا۔فیصلے میں عدالت نے خاص طور پر قرار دیا کہ ایک قانونی وارث کی جانب سے ملزمان کے ساتھ سمجھوتے سے متعلق حلف نامہ بھی ملزمان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا، کیونکہ حلف نامہ دینے والا عبد الکریم خود اسی مقدمے میں شریک ملزم ہے،
عدالت نے قرار دیا کہ یہ مقدمہ کاروکاری یعنی غیرت کے نام پر قتل کا ہے اور پولیس رپورٹ محمد شمس الدین، سب انسپکٹر کے بیان پر درج ہوئی جس کی ملزمان سے کوئی ذاتی دشمنی ریکارڈ پر نہیں، پولیس رپورٹ کی تائید جائے وقوعہ سے ملنے والے پانچ خولوں اور مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بھی ہوتی ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ ضمانت کے مرحلے پر مدعی اور گواہوں کا اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہونا خود بخود ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا، خصوصاً ایسے مقدمے میں جس میں غیرت کے نام پر قتل کا الزام ہو، کیونکہ دفعہ 311 تعزیرات پاکستان اور دفعہ 345 ضابطہ فوجداری کے تحت ایسے جرائم ناقابلِ راضی نامہ ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ ملزمان کے خلاف بادی النظر میں معقول شواہد موجود ہیں اور الزامات دفعہ 497 ضابطہ فوجداری کی ممانعتی شق میں آتے ہیں، اس لیے بعد از گرفتاری ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالے دیا کوئی شخص ”غیرت” کے نام پر کسی دوسرے کی جان لینے کا قانونی یا اخلاقی حق نہیں رکھتا، عدالت کے مطابق نہ ملکی قانون اور نہ ہی مذہب نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیتا ہے اور ایسا فعل سادہ قتل کے زمرے میں آتا ہے، عدالت نے مزید قرار دیا کہ غیرت کے نام پر قتل آئین کے آرٹیکل 9 میں دیئے گئے زندگی اور آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 8 کی روشنی میں ایسی رسم یا رواج بھی قابل قبول نہیں جو بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مقدمے کے ریکارڈ سے بادی النظر میں ملزمان کا مبینہ جرائم سے تعلق ظاہر ہوتا ہے، جبکہ یہ سنگین نوعیت کے جرائم ہیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ملزمان کے ساتھ نرمی نہیں برتی جا سکتی، عدالت نے محمد ناصر اور پرویز کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست میرٹ نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی۔عدالت نے آخر میں واضح کیا کہ فیصلے میں دی گئی تمام آبزرویشنز صرف ضمانت کی درخواست نمٹانے تک محدود اور عارضی نوعیت کی ہیں، ان کا زیر سماعت ٹرائل پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر آزادانہ طور پر کرے گی۔









