بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے چین–آسیان وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے پر چین کے اصولی موقف کی وضاحت کی۔ وانگ ای نے کہا کہ چین اور آسیان ممالک کے پاس بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے کو حل کرنے کی دانش اور صلاحیت موجود ہے۔
چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این نیٹ ورک نے رواں سال جون سے جولائی تک انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام، فلپائن اور سنگاپور کے 2,664 جواب دہندگان کے مابین ایک سروے کیا، جس کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت کو بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی کا اہم محرک سمجھا جا رہا ہے، اور امن پسند، خود مختار طریقے سے تنازعے کے حل پر جواب دہندگان کا اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔
سروے کے مطابق 84.6 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ بین الاقوامی قانون کے مطابق پر امن مکالمے اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ 64.3 فیصد کا ماننا ہے کہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت نے بعض دعویدار ممالک کو علاقائی مکالمے کے بجائے بیرونی حمایت پر انحصار پر مجبور کیا ہے، جس سے علاقائی سطح پر تنازعے کے حل کی صلاحیت مزید کمزور ہوئی ہے۔ 74.4 فیصد کا خیال ہے کہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی مسلسل مداخلت علاقائی کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گی، جو عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔









