لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن)کے ساتھ حکومت سازی کے لیے مذاکرات کے دوران بلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم انہوں نے یہ پیشکش مسترد کر دی تھی،
پہلی بار انکار کے باوجود بلاول بھٹو کو دوبارہ پیشکش کی گئی کہ وہ ڈھائی سال کے لیے وزارت عظمی کا منصب سنبھال لیںتاہم بلاول بھٹو نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اگر وہ اس پیشکش پر رضامند ہو جاتے اور یہ بات معاہدے میں درج کر دی جاتی تو لوگ پہلے دن سے ہی نئی حکومت کو ڈھائی سالہ حکومت کہنا شروع کر دیتے،بلاول بھٹو وزیراعظم ضرور بنیں گے لیکن اس وقت جب عوام انہیں ووٹ دیں گے، وہ کسی بارگیننگ کے ذریعے وزیراعظم نہیں بنیں گے۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی زمہ داری پوری نہیں کر سکیں اور یہ آج بھی ان پر بوجھ ہے۔
پاکستان میں گورننس کے مسائل ہیں اور اگر کراچی کا موازنہ لاہور سے کیا جائے تو کراچی کے حالات درست کرنے کی ضرورت ہے اور پیپلز پارٹی کو اس پر غور کرنا چاہیے۔انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ گورننس کی خرابی کا ذمہ دار صرف صوبائی حکومتوں کو ٹھہرایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں وفاق کا نام نہیں لیا جا رہا حالانکہ ریلوے، اسٹیل ملز اور بجلی جیسے کئی وفاقی اداروں میں مسائل ہیں۔پاکستان میں گورننس کے مسائل حل کرنے کے لیے صرف صوبوں کی تقسیم کو علاج سمجھنا درست نہیں، بلکہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی، اختیارات کی تقسیم اور انتظامی ڈھانچے کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور ہزارہ جیسے علاقوں میں نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں جبکہ سندھ میں صوبے کی تقسیم کی مخالفت بھی ایک اہم سیاسی حقیقت ہے۔قمر زمان کائرہ نے سوال اٹھایا کہ اگر گورننس کی بہتری ہی بنیادی مقصد ہے تو بحث صرف پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا ہ اور بلوچستان جیسے بڑے صوبوں کو تقسیم کرنے تک کیوں محدود ہے؟ ،وفاقی حکومت کی کارکردگی اور مقامی حکومتوں کے موثر نظام پر بھی اسی سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے سامنے اب بھی یہ ذمہ داری موجود ہے کہ وہ حقیقی جمہوری نظام کے ساتھ موثر مقامی حکومتوں کو یقینی بنائیں۔چھوٹے صوبوں کے معاملے پر بھارت کے ساتھ موازنے میں حقائق کو پرکھنا ضروری ہے۔
28 ویں ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق امکانات پر بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ یہ ایک وسیع معاملہ ہے جسے مختصر گفتگو میں مکمل طور پر واضح نہیں کیا جاسکتا۔پیپلز پارٹی کا موقف آئین میں دئیے گئے طریق کار کے مطابق آگے بڑھنے کا ہے،نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے اختلافات اور متعلقہ علاقوں کے عوامی جذبات کو سامنے رکھنا ہوگا۔









