چین

عالمی امور پر چین کی تجاویز کو بین الاقوامی برادری کی بھرپور حمایت حاصل ہے، سروے

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک)چین کے صدر شی جن پھنگ سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں ۔وہ یہاں منعقدہ چین عرب ممالک کے پہلے سربراہ اجلاس اور چین خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں ۔ چائنا میڈیا گروپ کے سی جی ٹی این تھنک ٹینک اور چھنگہوا یونیورسٹی میں ایپسٹین سینٹرسینٹر فار ایکسٹرنل کمیونیکیشن نے مشترکہ طور پر 20 ممالک کے 4،000 جواب دہندگان پر مشتمل ایک عالمی سروے کا انعقاد کیا۔ سروے کے مطابق، 94.2 فیصد جواب دہندگان نے تمام انسانیت کے لئے چین کی پیش کردہ مشترکہ اقدار “امن، ترقی، مساوات، انصاف، جمہوریت اور آزادی” کی تعریف کی، اور85 فیصد نے “انسانیت کے لئے ہم نصیب معاشرے” کے تصور کو سراہا۔

گزشتہ 10 سالوں میں چین نے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹو پر 20 عرب ممالک کے ساتھ تعاون کی کئی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں اور 17 عرب ممالک نے چین کے پیش کردہ عالمی ترقیاتی اقدام کی حمایت کی ہے۔ 78.4 فیصد جواب دہندگان نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشئیٹو سے اتفاق کیا اور اس یقین کا ااظہار کیا کہ “ترقی عالمی مسائل کو حل کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے”. 79.4 فیصد عالمی جواب دہندگان نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشئیٹو کے” گروپ آف فرینڈز” کے تعاون کے نتائج کی تصدیق کی جس میں چین نے حصہ لیا ۔

ان کا ماننا ہے کہ نسبتا اعلی درجے کی جامع قومی طاقت والے ممالک کو اپنی قومی طاقت کے مطابق مناسب بین الاقوامی ذمہ داریاں سنبھالنی چاہئیں۔
سروے میں، 85.2 فیصد جواب دہندگان کی رائے میں تمام ممالک کو عالمی ترقی کے خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ طور پر فعال اقدامات کرنے چاہئیں. 84.7 فیصد جواب دہندگان یہ توقع کرتے ہیں کہ تمام ممالک زیادہ جامع اور متنوع عالمی ترقی کو فروغ دیں گے اور مشترکہ طور پر عالمی معاشی استحکام کو برقرار رکھیں گے۔

اس کے علاوہ، 84.1 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ تعاون کی پیشگی شرط ترقی کے مختلف راستوں اور مختلف ممالک کے ادارہ جاتی اختلافات کا احترام کرنا ہے، جب کہ 89.6 فیصد جواب دہندگان کو توقع ہے کہ عالمی ممالک بات چیت اور مشاورت کے ذریعے بین الاقوامی تنازعات کو حل کریں گے.
سروے میں 85.6 فیصد جواب دہندگان نے چین کے پیش کردہ عالمی سلامتی کے اقدامات سے اتفاق کیا اور اس بات کو مانا کہ ترقی کے لئے سلامتی ایک شرط ہے۔ 80.8 فیصد نے تسلط پسندی، طاقت کی سیاست اور دوسرے ممالک پر من مانی پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کی۔

ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھنے والے 80.4 فیصد جواب دہندگان نے نشاندہی کی کہ سرد جنگ کی ذہنیت اور طاقت کی سیاست عالمی امن کے لئے خطرہ ہے جو کہ سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کرے گی ۔ تمام ممالک کو مشترکہ طور پر ایک متوازن ، موثر اور پائیدار سکیورٹی ڈھانچے کی تعمیر کرنی چاہئے۔