لاہور (رپورٹنگ آن لائن)اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ صوبوں کی تقسیم انتظامی ہو یا سیاسی اس پر بات ہونا باقی ہے،کسی بھی سیاسی جماعت کے سربراہ جو بیمار ہیں ان کو علاج کی سہولت ملنی چاہیے ۔
انہوں نے پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا پرامن حل نکالا جائے، اس مقصد کے لیے آرمی چیف اور وزیراعظم کی سفارت کاری قابلِ تحسین رہی ہے، آرمی چیف امریکہ ایران جنگ بندی کے لیے ایران گئے ہیں، دعا ہے کہ ان کا دورہ کامیاب رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے جہاں 1971ء کی جنگ ہارنے کی بات کی اگر وہ ادھر ہی کہہ دیتے کہ 10مئی کی جنگ جیتے ہیں تو ان کی بات میں وزن نظر آتا، مولانا فضل الرحمان 1971ء جنگ کی بات کرتے ہیں وہ بتائیں کہ کس کو دعوی ہے جس نے جو جنگ لڑی وہ جیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ صرف پاک افواج ہی نہیں پوری قوم نے مل کر لڑنی اور جیتنی ہے، پوری قوم کو دہشت گردی کی جنگ کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بننا ہوگا۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کیا بھارت دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو بھول سکتا ہے ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے متعدد بار دہشت گردوں کی نشاندہی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں کی تقسیم انتظامی ہو یا سیاسی اس پر بات ہونا باقی ہے۔کسی بھی سیاسی جماعت کے سربراہ جو بیمار ہیں ان کو علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔









