ڈاکٹر عشرت العباد خان 19

صوبوں پر نفرت کی آبیاری پاکستان سے بے وفائی کے مترادف ہے، عشرت العباد

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں صوبوں اور انتظامی یونٹس کو جواز بنا کر نفرت کی آبیاری پاکستان سے بے وفائی کے مترادف ہے، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ سیاست دانوں کے بجائے عوامی رائے اور ریفرنڈم کے ذریعے ہونا چاہیے۔میری پہچان پاکستان کے میڈیا سیل کے مطابق ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ پاکستان اصل دھرتی ہے جبکہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور دیگر انتظامی اکائیاں اسی وطن کا حصہ ہیں، کسی صوبے کو پاکستان کے مقابل کھڑا کرنا یا صوبائی شناخت کی بنیاد پر نفرت پیدا کرنا قومی مفاد میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی آبادی، وسائل کی غیر مساوی تقسیم، اختیارات کے ارتکاز اور عوامی مسائل کے حل میں تاخیر کے پیش نظر ملک میں انتظامی اصلاحات پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ ملک بھر کے سیاسی حلقوں، مختلف فریقوں اور کراچی کے نوجوانوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں، اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں عوامی ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ مقصد کسی علاقے کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ پاکستان کو ترقی، استحکام اور بہتر حکمرانی کی طرف لے جانا ہے۔

عوام نفرت اور انتشار کے بجائے قومی اتحاد اور استحکام چاہتے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کو ایک میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔انہوں نے سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان کو اپنا مؤقف کھل کر بیان کرنے کا حق دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھودیش کے خلاف قرارداد پیش کی جاتی ہے تو اسے ایوان میں زیر بحث لایا جائے اور پاکستان کی وحدت و سالمیت کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا جائے۔ جمہوری اداروں میں اختلاف رائے کا جواب دلیل سے ہونا چاہیے۔کراچی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سابق گورنر سندھ نے کہا کہ شہر ٹوٹ پھوٹ، ناقص انفرا اسٹرکچر، ٹریفک، پانی، سیوریج اور صفائی سمیت بنیادی مسائل میں گھرا ہوا ہے، کراچی ”کرچی کرچی” ہوچکا ہے، صرف بیانات اور دعووں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے میئر کراچی کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو اب الفاظ نہیں بلکہ عملی نتائج چاہئیں۔ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔جماعت اسلامی کی احتجاجی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ احتجاج کے ساتھ سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکردگی بھی عوام کے سامنے رکھنی چاہیے، کراچی کے شہری اب عملی اقدامات اور واضح نتائج چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کو کمزور سمجھنا یا ان کے سیاسی مینڈیٹ کو نظر انداز کرنا درست سیاسی حکمت عملی نہیں، شہری سندھ کے عوام کو مساوی حقوق، بااختیار بلدیاتی ادارے اور وسائل میں منصفانہ حصہ ملنا چاہیے۔

ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ میری پہچان پاکستان کی ایڈوائزری کونسل، مرکزی کمیٹی اور تنظیمی کمیٹی نے انتخابات میں جانے کا فیصلہ کیا ہے، ضرورت پڑنے پر تنظیمی کارکن بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”میرے ساتھی تیار ہوجائیں، ہم میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں