کراچی(رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائم اور قتل و غارت گری کے واقعات پر بات ہوگی تو میر رضا علی کے قتل کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا، واقعے کو 46 روز گزر گئے لیکن مقتول کے اہل خانہ کو تاحال انصاف نہیں مل سکا۔
گورنر ہاؤس سندھ کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر نے کہا کہ میر رضا اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا تھا، ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے، تاہم بقول ان کے، مجرموں کو بچایا جا رہا ہے اور ”سارے ظالم ملے ہوئے ہیں”۔انہوں نے کہا کہ میر رضا کے اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ مقتول کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔ اہل خانہ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، آج ایک میر رضا گیا ہے، کل کسی اور ماں کے بیٹے کی لاش اٹھائی جا سکتی ہے۔منعم ظفر نے کہا کہ جماعت اسلامی میر رضا کے والد میر حسین رضا کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہے اور ظلم کے نظام کے خلاف عدل کے قیام اور انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
میر رضا کے والد میر حسین رضا نے کہا کہ ان سے ان کا فخر اور غرور چھین لیا گیا۔ ان کے مطابق واقعے میں پولیس کی جانب سے غفلت برتی گئی، اگر وہ خود اپنے بیٹے کی لاش تک نہ پہنچتے تو آج بھی گمشدگی کی رپورٹ درج کرواتے پھر رہے ہوتے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ نظام مجرموں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور کہا کہ جب تک ان کے بیٹے کو انصاف نہیں ملتا، وہ اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس نظام کے خلاف ان کی لڑائی ہے، پوری مشینری کے ساتھ ان کے مقابل کھڑا ہے۔









