شیخ حسینہ واجد 18

شیخ حسینہ کی وطن واپسی کا خیرمقدم، سزائے موت پر نظر ثانی ہو سکتی ہے: بنگلہ دیش

ڈھاکہ(رپورٹنگ آن لائن) بنگلہ دیش حکومت نے معزول سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے وطن واپس آنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قانون کا سامنا کرنا ہو گا، تاہم عدالت سزائے موت کے فیصلے پر نظرِ ثانی یا انہیں بری بھی کر سکتی ہے۔

شیخ حسینہ واجد کے قریبی ذرائع نے بتایا تھا کہ وہ اپنی جماعت عوامی لیگ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے رواں سال کے اختتام تک رضاکارانہ طور پر ڈھاکا واپس آنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

78 سالہ شیخ حسینہ اگست 2024ء میں حکومت مخالف احتجاج کے نتیجے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں، جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔

شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی پر ردِعمل دیتے ہوئے بنگلا دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمٰن کے مشیر زاہد الرحمٰن نے کہا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کو چاہئے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے دنیا کے بہترین وکلاء کو ساتھ لائیں تاکہ وہ 2024ء کے طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا عدالت میں سامنا کر سکیں۔

میڈیا بریفنگ کے دوران زاہد الرحمٰن نے کہا کہ ہم ان کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ ہم انصاف کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، عوام چاہتے ہیں کہ ان کے جرائم پر سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی جائے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو عوام کی خواہش کے مطابق اس سزا پر عمل درآمد بھی کیا جائے گا۔

بنگلہ دیشی وزیرِاعظم کے مشیر کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کے بہترین وکلاء لے آئیں، انہیں مکمل موقع دیا جائے گا، انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل (بنگلا دیش) میں کارروائی شفاف انداز میں ہو گی، جس کی نگرانی مبصرین بھی کر سکیں گے جبکہ عدالتی کارروائی کی ویڈیو کوریج بھی ممکن ہو گی۔

زاہد الرحمٰن نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ عدالت شیخ حسینہ کے خلاف سنائے گئے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے یا انہیں بری قرار دے، حکومت شیخ حسینہ واجد کی ممکنہ واپسی کے حوالے سے کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں۔

زاہد الرحمٰن نے کہا کہ ماضی میں بھی عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں 2010ء میں قائم ہونے والے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے بعض فیصلے معطل یا کالعدم قرار دیے جا چکے ہیں، قانونی طریقۂ کار شیخ حسینہ کی واپسی میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور بھارت ڈھاکا سے مشاورت کے بعد ان کی واپسی کے انتظامات کر سکتا ہے۔

حسینہ واجد بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی ہیں، وہ 5 اگست 2024ء کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والے پُر تشدد عوامی احتجاج کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہو گئی تھیں۔

گزشتہ سال نومبر میں ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے 2024ء کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے تناظر میں مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں انہیں عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔

حسینہ واجد اپنے خلاف عائد تمام الزامات، سزائے موت اور دیگر عدالتی فیصلوں کو سیاسی انتقام اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

فیصلے کے بعد سے بنگلہ دیش مسلسل بھارت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کو قانونی کارروائی کے لیے ڈھاکہ کے حوالے کیا جائے۔

دوسری جانب بھارت نے شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی کے منصوبے پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر ہمارا مؤقف پہلے جیسا ہی ہے، حوالگی سے متعلق کوئی بھی درخواست قانونی نوعیت کا معاملہ ہے اور اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں