علی محمدخان

سینیٹ میں اپوزیشن کا وزیرمملکت علی محمدخان کے بیان پر شدیداحتجاج ،ایوان سے واک آﺅٹ کیا

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سینیٹ میں اپوزیشن نے وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان کے بیان پر شدیداحتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آﺅٹ کیا،کورم کی نشاندہی کی کورم مکمل نہ ہونے پر اجلاس پیرتک ملتوی کردیاگیا،وزیرمملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمدخان نے کہاکہ کل قومی اسمبلی میں اسپیکر کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا اس پر بات کروں گا،اپوزیشن نے اگر سچ نہیں سننا تو واک آوٹ کرلیں۔

اپوزیشن کے واک آﺅٹ پر حکومتی سینیٹرز نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن کے خلاف گٹ آﺅٹ کے نعرے لگاتے رہے،قائدایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ قانون سازی اکثریت کی بنیادپر کی جاتی ہے کل اپوزیشن کی ساری دھمکیاں غیرموثرثابت ہوگئیں،پارلیمانی جمہوریت کے فیصلے قبول کیے جائیں۔قائدحزب اختلاف یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ ملک میں روزانہ مہنگائی ہو رہی ہے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے لوگوں کومظاہروں پر اکسایہ جارہاہے، کل قومی اسمبلی میں بجٹ کو بلڈوز کیا گیا۔پریزائیڈنگ افسر نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا معاملہ قائمہ کمیٹی کوبھیج دیا۔

جمعہ کوسینیٹ کااجلاس پریزائیڈنگ افسر فیصل رحمان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ اجلاس میں وقفہ سوالات میں سوال کرتے ہوئے سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ بجلی کی قیمت میں پھر اضافہ کیا گیا ہے لوگوں کو احتجاج کے لیے اکسایا گیا ہے یہ ظلم ہے، یہ زیادتی ہے۔اس دوران قائدحزب اختلاف یوسف رضاگیلانی کھڑے ہوئے اور کہاکہ آئی ایم ایف کی شرائط بہت سخت ہیں یہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے ملک میں روزانہ مہنگائی ہو رہی ہے، لوگوں کو مظاہروں پر اکسایا جا رہا ہے، اس معاملہ کوکمیٹی میں بھیجنے سے پہلے ایوان میں بحث کریں۔قومی اسمبلی میں منی بجٹ کوجس طرح پاس کیاگیاہے اس کی مذمت کرتاہوں۔

کل قومی اسمبلی میں بجٹ کو بلڈوز کیا گیاروز روزبجلی کی قیمتوں میں اضافہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے تمام اخبارات میں ہیڈ لائنز ہیں کہ منی بجٹ بلڈوز کیا گیا۔قایدایوان سینیٹ سینیٹر ڈاکٹرشہزاد وسیم نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ کبھی سنتے ہیں عدم اعتماد آئیگا تو کبھی دوسری دھمکیاں دی جاتی ہیں، ساری کی ساری دھمکیاں غیر موثر ہوگئیں، ووٹنگ کے ذریعے ہونے والی قانون سازی کو بلڈوز کرنے کا کہنا سمجھ سے بالاتر ہے،پارلیمانی نظام پر قانون سازی ووٹ کی بنیاد پر ہے ووٹ پر منی بجٹ کو پاس کیا گیا ہے ہمیں کبھی تحریک عدم اعتماد کی دھمکی دی جاتی ہے، جو پاش پاش ہو جاتی ہے اپوزیشن کہتی تھی ہمارے ساتھ اتنے بندے رابطہ میں ہیں، ہمیں سگنل آ گیا وہ لوگ کل کہاں تھے پارلیمانی جمہوریت کے فیصلے قبول کیے جائیں بائیس کروڑ افراد کی بات وہ کہ رہے ہیں جنھوں نے بطور وزیر اعظم لوگوں کو کہا تھا کہ آپ بے شک ملک سے باہر چلے جائیں ایک اپویشن ممبر نے کہا تھا کہ ایک شادی پر دو دو ارب خرچ ہو جاتے ہیں شائد وہ حال میں ہی کسی شادی کا زکر کر رہے تھے۔پ

ریزایڈنگ افسر نے بجلی نرخ میں اضافہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان نے کہاکہ کل قومی اسمبلی میں اسپیکر کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا اس پر آج ایوان میں بات کروں گا، ہم نے کبھی اسپیکر یا چیئرمین کی کرسی کے ساتھ اس طرح نہیں کیا،اپوزیشن نے نے اگر سچ نہیں سننا تو کرلیں واک آوٹ۔جس کے بعد اپوزیشن نے علی محمد خان کے بیان پر ایوان سے واک آوٹ کردیا۔جس کے بعدپیپلزپارٹی کی سنیٹر قر العین مری نے کورم کی نشاندہی کردی۔گنتی کی گئی تو سینیٹ میں کورم پورا نہ نکلا،ایوان میں 15ارکان موجود تھے کورم کی نشاندہی کے بعد پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی جائیں جس کے بعد گھنٹیاں بجائی گئیں۔ اس دوران کورم کی نشاندہی کرنے پر حکومت سینیٹرز نے شدیداحتجاج کیا سینیٹرہمایوں مہند نے کہاکہ کورم کی نشاندہی پر اپوزیشن کو شرم آنی چاہیے اگر اپویشن کورم کا حصہ نہیں تو یہ ایوان میں نہ آئیں آپ ایوان سے نکل جائیں، Get out۔اپوزیشن نے کہیں جاناہے اس لیے کورم کی نشاندہی کی ہے پریزائیڈنگ افسر نے چیف وہیب سینیٹرفدامحمد اور وزیرریلوے سینیٹر اعظم سواتی کواپوزیشن کومنانے کے لیے بھجیامیں وہ اپوزیشن کومنانے میں ناکام ہوگئے پانچ منٹ گزرنے کے بعد دوبارہ گنتی کی گئی تو کورم نامکمل تھا جس پر پریزائیڈنگ افسر نے ایوان بالا کااجلاس سوموار کو دوپہر تین بجے تک ملتوی کردیا