لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت اور معیشت کے غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لایا جائے۔ایسوسی ایشن کے صدر شیخ احسان الحق، جنرل سیکرٹری طاہر محمود بٹ، سینئر نائب صدر شیخ یاسین ، نائب صدور شہباز قادر، عامر حنیف اور رانا منظور حسین سمیت دیگر عہدیداران نے کہا کہ ہر سال ٹیکس اہداف میں اضافہ تو کر دیا جاتا ہے مگر نئے ٹیکس دہندگان کی شمولیت کی رفتار انتہائی سست ہے جس کا خمیازہ محدود اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے طبقے کو بھگتنا پڑتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ سپر ٹیکس پر نظرثانی کی جائے، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنایا جائے۔ ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت، طویل ٹیکس مقدمات اور بعض شعبوں کی ناکافی ٹیکس شمولیت محصولات میں اضافے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔انہوںنے حکومت پر زور دیا کہ زیر التوا ء ٹیکس مقدمات کے فوری حل، غیر ضروری آڈٹس اور نوٹسز کے خاتمے اور معیشت کی دستاویزکاری کے لیے مراعاتی اقدامات کیے جائیں۔
ٹیکس شرحوں میں مزید اضافے کے بجائے ٹیکس بیس میں توسیع، پالیسی استحکام اور تمام شعبوں کی منصفانہ شمولیت ہی پائیدار محصولات اور معاشی استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے بجٹ میں حقیقی اصلاحات متعارف نہ کرائیں تو ٹیکس دہندگان کا اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے جبکہ موثر اور متوازن پالیسیوں کے ذریعے نہ صرف محصولات میں اضافہ بلکہ عوام اور کاروباری طبقے کو حقیقی ریلیف بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔









