اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) سپریم کورٹ میں 2 خواتین سمیت 3 افراد کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ 4 ملزمان نامزد تھے، جن میں سے ایک کو پھانسی ہو چکی ہے جبکہ 3 ملزمان اس وقت عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، وکیل صفائی نے کہا کہ مدعی کے ساتھ صلح نامہ بھی فائل کیا گیا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ ایک بچی نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی مگر سزا پورے خاندان کو مل گئی، راضی نامہ تو کرنا چاہتے تھے لیکن اس سے پہلے ہی قتل ہو چکا تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگر راضی نامہ کرنا تھا تو ٹرائل کورٹ میں دائر کیا جاتا، سپریم کورٹ کو اس میں کیوں شامل کیا جا رہا ہے، ایک ملزم نے گولی ماری جبکہ دوسرے نے قتل کیا۔
بینچ کے ایک رکن نے سوال اٹھایا کہ کس قانون کے تحت راضی نامہ منظور کیا جائے، جب ایک ملزم پہلے ہی سزائے موت کاٹ چکا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مدعی نہ خود عدالت میں موجود ہے، نہ بائیو میٹرک اور نہ ہی کوئی حتمی بیان حلفی موجود ہے، اس صورت میں راضی نامہ کیسے ممکن ہے۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے راضی نامہ جمع نہیں کروایا گیا، بعد ازاں عدالت نے ملزم رمضان کی عمر قید کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
یہ کیس 2008 کا ہے جس میں 4 ملزمان نے 3 افراد کو قتل کیا تھا، جن میں سے ایک کو سزائے موت ہو چکی ہے جبکہ باقی 3 عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔









