سپریم کورٹ آف پاکستان 11

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تاریخی فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن ) سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کر دیا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ والدین، رشتہ داروں یا دوستوں کی جانب سے دلہن کو دیا گیا سونا، زیورات اور برائیڈل گفٹس صرف دلہن کی ملکیت تصور ہوں گے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق شوہر، ساس، سسر یا دیگر سسرالی افراد کو ان زیورات پر نہ کوئی قانونی اور نہ ہی ملکیتی حق حاصل ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ دلہن کے زیورات یا تحائف کو روکنا یا ان پر ناجائز قبضہ کرنا اس کے ملکیتی حقوق سے غیرقانونی محرومی کے مترادف ہے، جبکہ شوہر یا سسرال ان زیورات کو اپنے استعمال میں بھی نہیں لا سکتے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی تحفے کی ملکیت کا تعین اس نیت کی بنیاد پر کیا جائے گا جس مقصد کے لیے وہ تحفہ دیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ بیوی اپنے زیورات، جہیز اور دیگر ذاتی سامان کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے، فیملی کورٹ کو ایسے مقدمات کی سماعت اور فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

سپریم کورٹ نے شوہر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں