سپریم کورٹ 132

سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد ہونے کے بعد گرفتاری میں تاخیر کو ناقابل قبول قرار دے دیا

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد ہونے کے بعد گرفتاری میں تاخیر کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود ملزم زاہد خان و دیگر کی گرفتاری میں 6 ماہ کی تاخیر پر واضح کیا ہے کہ صرف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے سے گرفتاری نہیں روکی جا سکتی اور عبوری تحفظ حاصل کرنے کیلئے عدالت سے باقاعدہ اجازت ضروری ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 4 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات پر فوری عملدرآمد انصاف کی بنیاد ہے، جبکہ پولیس کی طرف سے انتظامی سہولت کو گرفتاری میں تاخیر کا جواز بنانا ناقابل قبول ہے۔سپریم کورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے باوجود پولیس نے گرفتاری کیلئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا.

جس پر آئی جی پنجاب نے غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے سرکلر جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی۔عدالت نے قرار دیاکہ اگر اپیل زیر التوا ہو تب بھی، جب تک کوئی حکم امتناع نہ ہو، گرفتاری سے بچاؤ ممکن نہیں۔ درخواست گزار وکیل کی جانب سے اپیل واپس لینے پر عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں