سپریم کورٹ آف پاکستان 22

سپریم کورٹ ،20 سال پرانے قتل کیس میں ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی سزائیں کالعدم قرار ،ملزم کورہا کرنے کا حکم

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ریمارکس دئیے ہیں کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کردینا زیادہ بہتر ہے۔سپریم کورٹ نے20 سال پرانے قتل کیس میں ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ، جسے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا۔

ملزم محمد اقبال کو 2 افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، عدالت نے قرار دیا کہ شکایت کنندہ عینی شاہد نہیں ہے جب کہ گواہان کے بیانات میں بھی تضاد پایا گیا ہے، جائے وقوعہ اور پولیس سٹیشن کے درمیان 2 سے 3 کلومیٹر کا فاصلہ تھا، اس کے باوجود ایف آئی آر اسی دن کیوں نہیں درج کرائی گئی، اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی، یہ وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ زخمی گواہ نے کیوں ایف آئی آر درج نہیں کرائی، گولیوں کے 5 خالی خول بھی فرانزک کے لیے لیبارٹری نہیں بھجوائے گئے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ بغیر شک و شبہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ وقوعہ کے 14 سال بعد ملزم کا گرفتار ہونا ثابت کرتا ہے وہ قصوروار ہے، اسے قانونی طور پر قابل تائید نہیں قرار دیا جاسکتا، ملزم سے 342 کے بیان میں مبینہ مفروری کے بارے میں نہیں پوچھا گیا۔عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا کہ یہ طے شدہ اصول ہے کہ وہ شہادت یا واقعہ جو ملزم کے 342 کے بیان میں اس کے سامنے نہ رکھا جائے وہ ملزم کے خلاف استعمال نہیں ہوسکتا، ملزم گرفتاری کے خوف سے یا پولیس کے ہراساں کیے جانے کے خوف سے مفرور رہے تو اس بنیاد پر اسے قصوروار قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عدالت نے کہا کہ استغاثہ کے پیش کیے گئے شواہد نقائص اور شکوک شبہات سے بھرپور ہیں۔ فوجداری فقہ قانون میں طے شدہ اصول ہے کہ کوئی واقعہ جو شک پیدا کرے اس کا فائدہ ملزم کو ہی جاتا ہے، 14 سو سال سے طے شدہ ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا کے بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کر دینا بہتر ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ اگر درخواست گزار محمد اقبال کسی اور مقدمے میں نامزد نہیں ہے اسے فوری رہا کیا جائے۔واضح رہے کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر 29 اپریل 2006 کو بلدیہ ٹاؤن کراچی میں درج کی گئی تھی،بعد ازاں ملزم محمد اقبال کو 2 افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور سندھ ہائی کورٹ نے بھی بعد ازاں یہ سزا برقرار رکھی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں