سندھ ہائی کورٹ 13

سندھ ہائی کورٹ،ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف درخواست، میئر کراچی سمیت فریقین کو نوٹس

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف دائر درخواست پر میئر کراچی، میونسپل کمشنر کے ایم سی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 جولائی تک جواب طلب کرلیاہے۔

بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی و دیگر کی جانب سے ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ عدالتی ہدایات کے مطابق ترمیمی ٹائٹل جمع کروا دیا گیا ہے۔ ہل پارک شہر کا آخری بڑا سبزہ زار اور تفریحی مقام ہے۔ ہل پارک کو سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ کے ایم سی کے لینڈ ڈپارٹمنٹ نے اپریل 2026 میں دو این او سیز جاری کئے۔

این او سیز کے ذریعے ہل پارک میں پلاٹ پر تعمیراتی کام کی اجازت دی گئی۔ پارک کے ہی ایک اور حصے پر نجی ادارے کی جانب سے اسپورٹس ارینا چلایا جارہا ہے۔ عوامی پارکس اور کھلے مقامات عوامی امانت ہیں۔ عوامی مقامات کو نجی یا تجارتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ کے ایم سی کے محکمہ لینڈ کے جاری این او سیز منسوخ کیئے جائیں۔ ہل پارک میں غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن پر پابندی عائد کی جائے۔ تعمیر شدہ ڈھانچوں کو مسمار کرکے زمین کو اصل حالت میں بحال کیا جائے۔

عدالت نے میئر کراچی، میونسپل کمشنر کے ایم سی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 جولائی تک جواب طلب کرلیا۔ درخواست جماعت اسلامی رکن صوبائی اسمبلی محمد فاروق، چیئرمین یوسی 2 عرفان اللہ والا اور ممبر سٹی کونسل تیمور احمد نے دائر کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں