لاہور(رپورٹنگ آن لائن )وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ہ میں پاکستان تحریک انصاف کے لوگ بھی امن چاہتے ہیں اور دہشتگردی کا خاتمہ ان کی بھی خواہش ہے کیونکہ صوبے میں امن قائم ہونا پورے خطے کی ترقی، عوام کی سہولت، روزگار، تجارت اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے،خیبرپختونخوا ہ کی صوبائی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی جبکہ دہشتگردی کے مسلسل واقعات اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں نے صوبے کے حالات کو تشویش ناک بنا دیا تھا۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ عرصے کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات اور حملوں میں اضافہ ہوا جبکہ سکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بھی شہید ہوئے۔
ایسے حالات میں سب سے پہلی ترجیح صوبے میں امن قائم کرنا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہونی چاہیے تھی تاکہ معمولات زندگی بحال ہوں اور لوگوں کو ترقی کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ 12 اضلاع میں ایسے علاقے موجود تھے جہاں حالات کے باعث لوگوں کا آنا جانا بھی مشکل ہو گیا تھا لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے صورت حال سے نمٹنے کے لیے موثراقدامات نظر نہیں آئے۔صوبے کے عوام کے حالات کو سمجھنا اور ان کے مسائل کا احساس کرنا ضروری ہے،دہشتگردی کے باعث سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے اس لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں ہونی چاہئیں۔وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کے احتجاجی طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے تاہم اس حق کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا چاہیے۔
احتجاج کے دوران کسی شہری کو نقصان پہنچانا، سرکاری یا عوامی املاک کو متاثر کرنا اور امن و امان کی صورت حال خراب کرنا قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں احتجاج، مارچ اور جتھے بنانے کو زیادہ اہمیت دی گئی جبکہ اسلحے اور دیگر ذرائع کے ساتھ احتجاجی سرگرمیوں سے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ قومی اور صوبائی مفاد کو مقدم رکھے،دہشتگردی کے خلاف موثرکارروائی اور صوبے میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔








