لاہور( رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے مستقبل بارے کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی، سہیل آفریدی کے خلاف متعدد کیسز ہیں، سہیل آفریدی کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا، آئینی طور پر سہیل آفریدی کو ہٹایا جا چکا ہے،
سہیل آفریدی لمبے عرصے کیلئے جیل میں رہیںاس کی پیشگوئی نہیں کرسکتا،اسمبلی بحالی کے بعد بھی ایمرجنسی کے تحت لایاگیا سسٹم ہی چلے گا،گیارہ رکنی کونسل ہی انتظام چلائے گی ،پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف کردار ادا کرنے پر راضی ہو جائے تو سیاسی مسائل کا حل نکالا جا سکتاہے۔ ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ 6مہینے بعد اسمبلی بحال ہو جائے گی،ایمرجنسی کیلئے ٹائم فریم نہیں، اسمبلی بحالی کے بعد بھی ایمرجنسی کے تحت لایاگیا سسٹم ہی چلے گا،ایسا قائد ایوان منتخب ہو گا جو دہشتگردی کے خلاف کھڑا ہو، یہ غلط بات ہے کہ آپریشن کی وجہ سے لوگوں کو بے گھر کیا جائے گا۔
انہوںنے کہا کہدہشتگردوں سے مذاکرات اور جرگہ نہیں ہونا چاہیے، دہشتگردوں نے انہی چیزوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کا نقصان کیا، جولوگ دہشتگردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں انہیں راستے سے ہٹایا جائے گا، ہم نے کہا تھا دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت مکمل تعاون کرے گی،اس لائن کو چھوڑ دیں، پی ٹی آئی دہشتگردی کیخلاف کردار ادا کرنے پر راضی ہو جائے تو سیاسی مسائل کا حل نکالا جا سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے مستقبل کے حوالے سے کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ان کے خلاف متعدد کیسز ہیں اور ایف آئی آر بھی درج ہیں، لہٰذاانہیں ان تمام مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔سہیل آفریدی کتنے عرصے تک جیل میں رہیں گے، اس حوالے سے وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، بہرحال انہیں آئینی طور پر وزیراعلی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آئین کے مطابق 2، 2 ماہ کے لیے گورنر راج لگایا جا سکتا ہے اور اس کی مدت 6 ماہ تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ 6 ماہ کے بعد گورنر راج مزید نہیں رکھا جا سکتا تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے کوئی مخصوص مدت نہیں ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ 6 ماہ کے بعد اسمبلی بحال ہو جائے گی اور اس کے بعد حکومت کا انتظام 11 رکنی کونسل ہی چلائے گی، اسمبلی بحالی کے بعد بھی ایمرجنسی کے تحت لایا گیا سسٹم ہی جاری رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کابل میں ایک چائے کا کپ پی کر کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو پاکستان لانے والوں نے ان کو پاکستان میں آباد کرنے کا باقاعدہ مقدمہ لڑا اور اس وقت کی حکومت نے اس کی باقاعدہ منظوری دی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایک میٹنگ میں جنرل فیض حمید اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کا بھرپور دفاع کیا اور مقدمہ لڑا کہ طالبان کے 30 سے 35 ہزار لوگ ہیں جن کو واپس لانے کی اجازت ہونی چاہیے،
جن میں 7 سے 8 ہزار جنگجو جبکہ باقی ان کے بیوی بچے ہیں۔انہوں نے یہ موقف اپنایا تھا کہ اگر ان کے بچے ادھر ہی بڑے ہو گئے تو وہ بھی دہشتگرد بن جائیں گے، لہٰذہم ان کو واپس پاکستان لا کر آباد کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل (ر)قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ یہ طالبان ہتھیار پھینک دیں گے، لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ خواب آج تک پورا نہیں ہوا۔ایک اور سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی اس پالیسی کی منظوری اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت نے ہی دی، حکومت کی منظوری کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔انہوںنے کہا کہ جو لوگ دہشتگردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں انہیں راستے سے ہٹایا جانا چاہیے،ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف صوبائی حکومت کو مکمل تعاون کرنا چاہیے۔اگر پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف اپنا مثبت کردار ادا کرنے پر راضی ہو جاتی ہے تو اس سے تمام سیاسی مسائل کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے۔









