اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے باعث ایمرجنسی نافذ کی گئی،جب کوئی صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہو تو سیاست روک کر ریاست کو ترجیح دینے کا وقت ہوتا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تمام تر توجہ سیاست پر مرکوز تھی، ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا اختیار ہے۔
جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفا ذ کے حوالے سے پیش کردہ صدارتی حکمنامے پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں صدر مملکت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین کے ارٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کے اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے قرار دادوں کی منظوری دی ہے اور انہوں نے اس سارے عمل کی قراردادوں کی منظوری کے ذریعے توثیق کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین ایک متفقہ دستاویز ہے جس کو بڑی باریک بینی سے بنایا گیا ،دونوں ایوانوں نے ان قراردادوں کی منظوری دی کیونکہ اٹھارویں ترمیم میں دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاسوں میں اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور اس طرح یہ بھی ایک آئینی تقاضا تھا کہ دونوں ایوان الگ الگ اس کا جائزہ لے کر قراردادوں کے ذریعے اس کی توثیق کریں۔
اس حوالے سے یہ بھی بڑی اہمیت کا حامل نقطہ ہے کہ اس سارے عمل کو جمہوری انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو۔صدر مملکت صوبے کی صورتحال پر اپنے مکمل اطمینان کے بعد یہ حکم نامہ جاری کرتے ہیں،یہ مقتدر ایوان ہے اس میں بڑے تحمل سے ارکان ان دستاویزات پر اظہار خیال کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کی منظوری دی جاتی ہے۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس صدر مملکت نے طلب کیا ہے اور ہم سب یہاں موجود ہیں۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوان نے اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ان دونوں امور پر بحث کی ہے۔گزشتہ روز بھی ہم نے ان وجوہات اور محرکات پر اظہار خیال کیا کہ وہ کون سے حالات تھے اور کیا ضرورت تھی کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کیا گیا،آئین نے جو مینڈیٹ دیا اس کے مطابق عمل کیا گیا اور یہ ایک جمہوری طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ تمام محرکات قوم کے سامنے میڈیا کے ذریعے بھی پیش کیے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 234 کے حوالے سے صدر مملکت کو ایک خط کے ذریعے تمام حالات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ صوبے میں دہشت گردی کی جنگ دن بدن زور پکڑ رہی ہے،یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ یہ ایکسرسائز پہلے کیوں نہیں عمل میں لائی گئی جس پر انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ عمل آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا ہے،اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخواکی صوبائی حکومت کو اس معاملے پر پہلے بھی بار بار آگاہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس سارے معاملے میں ایک بہت بڑا حصہ سرحد پار سے مداخلت کا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ خود پشاور جاتے رہے ،اپیکس کمیٹی کے اجلاس بھی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور باجوڑ میں ایک ہی دن دہشت گردی کے واقعات ہوئے اور لوگوں کی شہادتیں ہوئیں جس پر ان لوگوں کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئے ہے،صوبائی حکومت کے سربراہ کو اس صورتحال میں وہاں موجود ہونا چاہیے نہ کہ انہیں جلسوں میں میوزک لگا کر جشن کا سما ں بنایا جائے،اس ساری صورتحال کے برعکس وزیراعلی خیبر پختونخوا کا سارا زور ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز تھا۔انہوں نے کہا کہ 2025 میں سہیل آفریدی کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے سے لے کر اب تک صوبہ میں دہشت گردی کے 3787 واقعات ہوئے حالانکہ اس سے پہلے گزشتہ تین سالوں میں صوبہ میں دہشت گردی کے 2900 واقعات ہوئے تھے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا جل رہا ہے ، وہاں کی صورتحال خراب ہے،، سرحد پار سے بھی مداخلت ہو رہی ہے ،ہمارے علماء اور سویلین اس شہید ہو رہے ہیںیہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب ریاست کو ترجیح دینی چاہیے اور سیاست کو چھوڑ دینا چاہیے۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کہ گورنر اس صورتحال کی صدر مملکت کو باقاعدہ نشاندہی کرتے ہیں جس کے بعد یہ ایکسرسائز عمل میں لائی گئی۔قومی سلامتی کے معاملات عدالتوں میں بھی جب گئے تو ان کو ان کیمرہ زیر غور لایا گیا،آئین کے آرٹیکل 232 کا حوالہ دیتے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی اندرونی صورتحال بھی خراب تھی۔2010 سے صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے این ایف سی کا ایک فیصد اضافی دیا گیا جو رواں سال 13 ارب بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہاں پہ سی ٹی ڈی کا ڈھانچہ پوری طرح موجود نہیں تھا۔ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے تک اس معاملے پر تفصیلی غور و غوض کیا اور اجتماعی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی ایک آخری کوشش کی گئی جس کے دوران دونوں طرف سے اس پر رائے دی گئی۔اب یہ سارا اس ایوان کا اختیار ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے آئین پاکستان کے تحت تمام تر اختیار اسی ایوان کے پاس ہے۔









