محمد جاوید قصوری 18

حکمران ایسے فیصلوں سے گریز کریں جوملک میں مزید سیاسی تقسیم کا سبب بنیں’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاویدقصوری نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت سنگین معاشی مشکلات اور سیاسی بے یقینی سے گزر رہا ہے، مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے حکومتی اخراجات نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور بارہ اضلاع میں ہنگامی صورتحال کے نفاذ سے متعلق اقدامات نے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تصادم اور محاذ آرائی کے بجائے قومی یکجہتی، آئینی بالادستی اور عوامی مسائل کے حل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلافات کو برداشت کیا جائے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ کسی بھی بحران کا حل سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینے، باہمی مشاورت اور جمہوری روایات کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ اگر سیاسی مسائل کو انتظامی اقدامات اور سخت فیصلوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔محمد جاویدقصوری نے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی امن و امان اور سیاسی عدم استحکام جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

ایسے میں گورنر راج اور ہنگامی صورتحال کے نفاذ جیسے اقدامات کے قانونی، آئینی اور جمہوری پہلوؤں کو سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے۔ ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ ایسے فیصلوں سے گریز کریں جو عوام کے اعتماد کو کمزور کریں یا ملک میں مزید سیاسی تقسیم کا سبب بنیں۔ قومی سلامتی اور امن و امان کے مسائل کا حل عوامی نمائندگی اور آئینی اصولوں کو نظرانداز کرکے نہیں نکالا جا سکتا۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ پارلیمان میں موجود حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ عوام نے اپنے نمائندوں کو اس لیے منتخب کیا ہے کہ وہ ان کے حقوق کا تحفظ کریں، مہنگائی میں کمی لائیں اور ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے کر جائیں۔ پارلیمان کو عوامی مشکلات کے حل کے لیے مؤثر قانون سازی کرنی چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے حقیقی ریلیف مل سکے۔ حکمران طبقے کے غیر ضروری اخراجات، سرکاری وسائل کے بے جا استعمال اور مالیاتی بے ضابطگیوں پر قابو پانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوام پر نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے حکومتی اخراجات میں کمی اور معاشی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے۔محمد جاویدقصوری نے مزید کہا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے آئین کی بالادستی، جمہوری تسلسل، عوامی حقوق کا احترام اور معاشی انصاف ناگزیر ہیں۔ تمام سیاسی قوتیں قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کیونکہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کا راستہ محاذ آرائی نہیں بلکہ آئینی حکمرانی، عوامی فلاح اور باہمی اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں