عظمی بخاری 13

جنوبی پنجاب صوبے کیلئے کھوکھلے نعرے لگانے والے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں ‘ عظمیٰ بخاری

لاہور(رپورٹنگ آن لائن)صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کیلئے کھوکھلے نعرے لگانے والے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو انہیں اربوں روپے کے منصوبے اور وہاں ہونے والی ترقی نظر آئے گی ، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام منصوبوں میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کو ترجیح دی ہے ،

یہ بیشک وزیر اعلیٰ کو تحسین پیش نہ کریں لیکن جنوبی پنجاب کے عوام وزیر اعلیٰ نواز کو دعائیں دے رہے ہیں ،لاہور اور پنجاب جیسی ترقی کسی او رصوبے میں ہے جو ہم سے دوسرا صوبہ مانگتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی بجٹ پر عام بحث کے دوران تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے گزشتہ تین روز سے جو تقایر ہو رہی ہیں اس میں اخلاق سے گری ہوئی گفتگو بھی کی گئی ہے ۔یہ آج بھی اپنی بات کا آغاز یہاں سے کر تے ہیں کہ بغاوت کا سماں کر دواور ان کی بات کا اختتام گولیوں اور خون پر ہوتا ہے ۔انہوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا ، انہوں نے نو مئی سے کوئی سبق نہیں لیا، پھر واویلا کرتے ہیں ہمارے ساتھ ظلم ہو گیا ،ستم ہو گیا ۔

نو مئی کی ایک ایک ویڈیوز اورآڈیوز موجود ہیں کہ کس طرح جتھوں کو مطلوبہ جگہ دکھائی گئی ان کی قیادت کی گئی اور وہاں آگ لگائی ۔ آج بھی یہ باہر نکلتے ہیں تو یہ بات کرتے ہیں سر کاٹ دو،گولی خون کی بات کرتے ہیں ، آخر کب تک ایسا چلے گا ۔انہوں نے کہا کہ میں نے قائد حزب اختلاف کی گفتگو بڑی توجہ سے سنی ہے ، ان کی ایک گھنٹے کی تقریر میں آخری پانچ منٹ پنجاب کے عوام کے بارے میں تھے ۔پھر یہ کہتے ہیں دوسرے غلط مینڈیٹ سے آئے ہیں ہم صرف صحیح مینڈیٹ سے آئے ہیں ۔یہ کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں لیکن جب ان سے ثبوت مانگے جائیں تو ان کے پاس سے کچھ نہیں نکلتا ۔

یہ کہا گیا کہ 18ارب روپے میڈیا تشہیر کے لئے رکھا ہے گیا ، جب میں ان سے ثبوت مانگوں گی لیکن ان سے کچھ نہیں نکلے گے ، یہ جس سے یہ لے کر آئے ہیںاس کو یہ خود صبح و شام گالیاں دیتے ہیں اور یہاں پر بغیر تصدیق کے 18ارب کی بات دہرا دی گئی ۔ اللہ کی شان دیکھیں کرپشن کی کس منہ سے کی جارہی ہیں ، جو لوگ سلائی مشینوں سے اورزکوة خیرات سے امیر ہوئے ہیں وہ دوسروں پر کرپشن کی باتیں کریں گے۔ مجھے ان سے دلی ہمدردی ہے ، ان بیچاروں علیمہ باجی کا بہت دبائو ہے کیونکہ وہ ان کا ساتھ سلوک ہی ایسا کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے چند یوٹیومرز اور ٹائیگرز ان کے گھٹنوں میں بیٹھ گئے ہیں،

افسوس کی بات ہے علیمہ باجی انہیں اڈیالہ کے باہر ڈھونڈتی ہیں یہ جائیں اڈیالہ کے باہر،یہ کہتے ہیں بانی کی بہنیں جیل کے باہر کھڑی ہوتی ہیں ،ان کو خیال آنا چاہیے ،آپ کو بہنوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے ،آپ میں سے کتنے وہاں جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ہم پر سیاسی تنقید کریں ،پالیسیوں پر تنقید کریں وہ ہماری سر آنکھوں پرہو گی لیکن جب یہ سوشل میڈیا پر جھوٹی باتیں کریں گے ، یوٹیومر ز کی کہی ہوئی باتیں دہرائیں گے تو اسی طرح جواب دیا جا ئے گا ۔انہوں نے کہا کہ 2018میں جس مہاتما کی حکومت تھی اس وقت بھی سیلاب آیا تھا ، جب سیلاب میں تونسہ کا دورہ کیا گیا تو کسانوں کو یہ سمجھایا گیا کہ سیلاب آپ کے لئے بہت بڑی نعمت ہے ، اگلے سال آپ کی فصلیں بہت اچھی ہوں گی ، مہاتما کے دبائو میں آکر یہ بزدار جیسے نکمے کی تعریفوں میں زمین آسمان کے کلابے ملاتے رہے ، ہمیں آج یہ کہتے ہیں کہ ہم قصیدے پڑھتے ہیں ،

جس خاتون وزیر اعلیٰ کی محنت سے صوبے میں 100سے زائد منصوبے شروع ہوئے ہیں ہم کیوں نہ اس کے قصیدے پڑھیں،نا مساعد حالات کے باجوود ، آپ لوگوں کی جانب سے کردار کشی کے باوجود وہ ہر طرح ڈٹی ہوئی ہیںکہ انہوںنے پنجاب کے لوگوں کا خیال کرنا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہمارے بہت اپنے بھی ہیں جن کو اچانک سے جنوبی پنجاب کاخیال آ گیا ہے کہ ان کو بھی صوبہ لینا ہے ، محرومیاں بڑھی ہیں ، اگر محرومیاں ایک ٹریڈ مارک ہے تو محرومیاں تو کراچی میں بڑی ہیں، پشاور میں بڑی محرومیاں ہیں ،لاہور اور پنجاب جیسی ترقی کسی او رصوبے میں ہے جو ہم سے دوسرا صوبہ مانگتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ یہ کھوکھلے نعرے لگاتے ہیں کہ صوبہ بنا لیں ،بیور وکریسی کو لعن طعن کرتے ہیں ، اپوزیشن کے لوگ حکومت پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کو یہ چاہیے کہ ان کے علاقوں میں الیکٹرک بسیں چلیں ،الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں آپ کو تعصب کی عینک اتارنی ہو گی ، یہ خود کہتے ہیں الیکٹرک بسیں تو چل رہی ہیں لیکن ہمارے حلقے کے اندر سے الیکٹرک بسیں نہیں گزرتی ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دن رات کی محنت سے پنجاب میں رہنے والوں کی زندگیوں میں طلاطم برپا کیا ہے ۔ اپوزیشن پر جب اپنے حلقوں سے دبائو آتاہے تو انہیں سمجھ آتی اس کا کس طرح سامنا کریں ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پٹرول بحران کے دوران مفت ٹرانسپورٹ کے لئے 80کروڑ کی سبسڈی دی ہے ۔پنجاب حکومت نے الیکٹرک بسوں کا آغاز جنوبی پنجاب سے کیا ،اس کے بعد پنجاب کے بڑے شہروں کے اندر الیکٹرک بسیں آئیں، جنوبی پنجاب میں ابھی تک 125الیکٹرک بسیں دی جا چکی ہیں، میں خوشخبری دینا چاہتی ہوں کہ 1100بسوں کا جو نیا فلیٹ ہے وہ 3سے4 روز میں پنجاب پہنچ جائیں گی ادسمبر تک صوبہ بھر میں تحصیل سطح پر الیکٹرک بسیں پہنچا دی جائیں گی ۔انہوں نے کاہ کہ کسی کی محرومی کو جواز بنا کر تقریر کر دینا بہت آسان بات ہے ، ہم بھی تنقید کرتے رہے ہیں لیکن ہم نے کبھی اخلاق سے گری ہوئی تنقید نہیں کی ۔ اپوزیشن والے اپنے حلقوں میں ترقی چاہتے ہیں لیکن ان کو مریم نواز شریف کا شکریہ ادا نہیں کرنا ،وزیر اعلیٰ کو خراج تحسین پیش نہیں کرنا چاہتے نہ کریں انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ عوام جو اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ مریم نواز شریف کو دعائیں دیتے ہیں۔

مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں تیس ہزار کلو میٹر سے زائد سڑکیں بنی ہیں۔ایک مہاتما تھا جو کہتا تھا کہ سڑکیں بننے سے ترقی نہیں ہوتی ،اب آپ کیوں یہ ترقی چاہتی ہیں ، اس کے لئے کیوں بے صبرے ہوئے جارہے ہیں۔ طلبہ کے لئے الیکٹرک بائیکس کی سکیم شروع کی گئی تو سب سے جنوبی پنجاب میں 8444ای بائیکس تقسیم کی گئیںجس میں طالبات ترجیح دی گئی ، اگر آپ کو اپنے حلقوں میں یہ چلتی ہوئی نظر نہیں آتیںتو کیا کیا جا سکتا ہے ، پنجاب میں طلبہ کو وظائف دئیے گئے تو اس میں جنوبی پنجاب کو 33004وظائف تقسیم کئے جا چکے ہیں ، لائیو سٹاک کے پروگراموں میں جنوبی پنجاب کو ترجیح دی ،اپنا کھیت اپنا روزگار پروگرام کے تحت دس سال لیز پر بے زمین کاشتکاروں کو زمین کی فراہمی میں بھی جنوبی پنجاب کو ترجیح دی گئی ، اس کے ساتھ انہیں زمین آباد کرنے کے لئے فی ایکڑ پچاس ہزار روپے مالی امداد بھی دی جارہی ہے ۔سکول میل پروگرام میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کے سکولوں کو ترجیح دی ۔یہ صرف خالی باتیں کر کے چلے جاتے ہیں ، ہمارے بہت سارے جو اپنے بھی ہیں انہیں ترقیاتی منصوبوں کے لئے پچیس ،پچیس کروڑ کے فنڈز ملے تھے وہ کہاں استعمال ہوئے اس کا بتائیں۔

جنوبی پنجاب کے سکولوں میں 13ارب سے سکول میل پروگرام شروع کیا گیا ، اب اسے مزید 13اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے ،ورلڈ بینک کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس پروگرام کی وجہ سے سکولوں میں داخلوں کی شرح میں 22.7فیصد اضافہ ہوا ہے اور 11لاکھ 93ہزار بچے اس سکیم کے بعد سرکاری سکولوں میں انرول کئے جا چکے ہیں۔ اپنی چھت اپنا گھر سکیم میں بھی جنوبی پنجاب کے اندر گھر بن رہے ہیں ، جنوبی پنجاب کے 11اضلاع میں جانچ پڑتال کے بعد ایک لاکھ پچاس ہزار مستحقین کو گھر بنانے کے لئے 15لاکھ روپے کے قرضے دئیے گئے ۔جنوبی پنجاب صوبے کے کھوکھلے نعرے لگانے والوں کو یہ پروگرام نظر نہیں آتے جو وہاں کامیابی سے چل رہے ہیں ، لیکن یہ پروگرام جنوبی پنجاب کے لوگوں کو تو نظر آرہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے جنوبی پنجاب کے لئے سینی ٹیشن اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا پروگرام شروع کیا ِ،بیوٹی فکیشن پروگرام کے تحت جنوبی پنجاب کام جاری ہے

لیکن سیاسی تعصب کی عینک لگانے والوں کو یہ نظر نہیں آتا ۔ ان کو بزدار جو”ٹرین ”ہو رہے تھے پتہ نہیں کون سی ٹرین پر چڑھ گئے وہ نظر آتے ہیں ۔نگہبان رمضان پیکج جس کے تحت تیس لاکھ سے زیادہ خاندانوں کو دس ہزار کے پے آرڈر دئیے گئے اس میں بھی جنوبی پنجاب میںلاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے استفادہ کیا ۔جنوبی پنجاب میں یونیورسٹی کا کیمپس ،ڈیرہ غازی خان میں نیا ہسپتال بن رہا ہے ، ضلعی اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی گئی ہے ، نشتر ہسپتال فیز ٹو کو مکمل کر لیا گیا ہے۔

دھی رانی پروگرام ،ہمت کارڈ،مینارٹی کارڈ کے پروگراموں میں جنوبی پنجاب کو ترجیح دی گئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ کچے کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروںنے کئی آپریشن کئے جو مکمل نہ ہو سکے ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سربراہی میںجو آپریشن ہوا اب کچہ ڈاکوئوں سے آزاد ہوچکا ہے ،اب کچے کی تعمیر نو کی جارہی ہے ،اپوزیشن کے ممبران نے کل یہی کھڑے ہو کر وزیر اعلیٰ کی تعریف کی اور شکریہ ادا کیا کہ ان کے مغوی بازیاب کرائے گئے وہاں امن ہوا ، کچے میں 50ارب کا پروگرام شروع کیا جارہا ہے ،5ارب کی تعمیر نو کے لئے استعمال ہو ں گے ۔انہوںنے کہا کہ آپ سیاسی پوائنٹ سکورننگ ضرور کریں ،تنقید برائے تنقید ضرور کریں کیونکہ آپ کو سیاسی تعصب کی عینک کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا لیکن آپ جنوبی پنجاب کا کندھا استعمال نہ کریں ۔

میرا چیلنج ہے کہ جنوبی پنجاب میں سب سیاسی جماعتوں کی حکومتیں رہی ہیں لیکن جتنا کام اور ترقی موجودہ حکومت کے دور میں ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی اور یہ سفر آئندہ دو سال بھی جاری رہے گا۔ مریم نواز شریف کی نظر میں ایک پنجاب ہے ، وہ سارے پنجاب کو ایک نظر سے دیکھتی ہیں۔ ستھر اپنجاب پروگرام میں کوئی تفریق نہیں برتی گئی ، الیکٹرک بسیں دیتے ہوئے کوئی تفریق نہیں دکھائی گئی ۔ وزی اعلیٰ پنجاب جب کسی طالب علم کو سکالر شپ دیتی ہیں ، لیپ ٹاپ دیتی ہیں تو کسی سے یہ نہیں پوچھتیں آپ کا کس سیاسی جماعت سے تعلق ہے ، ہمارے دور میں فہرستیں ٹائیگروں کے ذریعے نہیں بنائی جاتیں،جس نے ہمیں ووٹ دیا جس نے ووٹ نہیں دیا سب کے لئے یکساں ترقی ہو رہی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں