مفتاح اسماعیل 14

جماعت اسلامی کا دھرنا عوام کی آواز ہے، پٹرولیم لیوی ختم کی جائے،مفتاح اسماعیل

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل نے گورنر ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے جاری دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دھرنے کے 26ویں روز شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ دھرنے کے شرکاء 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے مطالبات معقول ہیں اور انہیں سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت فی لیٹر پٹرول پر 85 روپے لیوی سمیت دیگر ٹیکسز کی مد میں مجموعی طور پر 106.68 روپے اضافی وصول کر رہی ہے، جبکہ ملک میں 60 فیصد سے زائد موٹر سائیکل سوار پٹرول استعمال کرتے ہیں، اس لیے پٹرول کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر عالمی مالیاتی ادارے کا حوالہ دیتی ہے، تاہم عوام سبسڈی نہیں مانگ رہے بلکہ ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس کی قیمتیں پہلے ہی بہت زیادہ ہیں اور مہنگائی کے باعث شرح سود میں مزید اضافہ عوام کے مسائل بڑھا دے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک پر 85 ہزار ارب روپے کا قرض ہے اور شرح سود میں ایک فیصد اضافہ بھی قومی خزانے پر بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ حکومت مہنگائی کے باعث مرکزی بینک کو اضافی سود ادا کرنے پر تو تیار ہے لیکن عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکریٹری نے کہاکہ حکومت نے دو سال قبل گندم خریدنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وعدہ پورا نہ ہونے سے کسان مشکلات کا شکار ہوئے۔ آج کراچی میں آٹا 180 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ کسان کو گندم کی قیمت 70 روپے فی کلو مل رہی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا عوام کی آواز ہے، جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے متعلق بھی عوام کو فائدہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی بوری بند سیاست نہیں کرتی بلکہ عوامی مفاد کی سیاست کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے سے 30 فیصد تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے اور موٹر سائیکل سواروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

حکومت عوام کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھائے اور پٹرولیم لیوی کا بوجھ ختم کرے۔مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ لیوی کے بوجھ سے غربت میں اضافہ اور شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 21 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اس لیے نظام میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر بھی تبدیلی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں