محمد جاوید قصوری 13

جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن اور مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا ‘ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ کراچی سے روانہ ہو چکا ہے، جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کر رہے ہیں،مارچ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا ٹرین کے ذریعے ملتان پہنچے گا، جہاں سے قافلہ بذریعہ سڑک اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا، ملتان کے بعد قافلہ خانیوال، میاں چنوں، چیچہ وطنی، ساہیوال، اوکاڑہ، پتوکی، لاہور، مریدکے، کامونکی، گوجرانوالہ، گجرات سمیت مختلف شہروں سے گزرتا ہوا راولپنڈی پہنچے گا، اس احتجاج کا بنیادی مقصد عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز منصورہ میں اسلام آباد مارچ کے استقبال، تیاریوں اور دیگر ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کے بعد،شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس سے قبل بھی ملک کے مختلف شہروں میں طویل دھرنے دے چکی ہے اور کئی مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ لاہور، پشاور، کوئٹہ، سکھر، حیدرآباد، چترال، راولپنڈی اور گجرات سمیت تقریباً 45 مقامات پر گزشتہ 35 روز کے دوران احتجاج اور دھرنے دیئے جا رہے ہیں، تاہم کسی بھی احتجاج کے دوران ایک گملا تک نہیں ٹوٹا۔ہمارا احتجاج پر امن ہے اور عوام کی بات کر رہے ہیں۔جماعت اسلامی پنجاب کے امیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ احتجاجی مارچ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ احتجاج کا مقصد کوئی ذاتی یا جماعتی مفاد حاصل کرنا نہیں بلکہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔

ملک کے کروڑوں شہری مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس لیے عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔محمد جاوید قصوری نے حکومتی اخراجات اور مراعات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو کفایت شعاری کے عملی نمونے پیش کرنے چاہییں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز خود اعتراف کر چکی ہیں کہ ان کا جہاز نو ارب روپے کا ہے ۔ حکمران طبقے کے شاہانہ سفری اخراجات عام آدمی کے معاشی مسائل کے تناظر میں سوالات پیدا کرتے ہیں۔مگر حکمرانوں نے بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کفایت شعاری کے نام پر ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہییں جن کا عملی نتیجہ سامنے نہ آئے۔ ماضی میں بھی مختلف حکومتوں کی جانب سے کفایت شعاری کے اعلانات کیے گئے، مگر عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے آئی پی پیز کے خلاف ماضی کے احتجاج اور اس کے نتیجے میں ہونے والی مبینہ مالی بچت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی دباؤ کے ذریعے معاشی معاملات میں اصلاحات ممکن ہیں۔ جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن رہے گا اور مطالبات کی منظوری تک احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں