ترکی

ترکی ، سفارتی بحران کے خدشے کے پیش سفیروں کی ملک بدری کا فیصلہ واپس

انقرہ(ر پورٹنگ آن لائن)بین الاقوامی تنہائی اور تیزی سے معاشی زوال کے خطرات کے باعث ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے 10 مغربی سفیروں کو ملک بدر کرنے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ ان سفیروں کو ترک کاروباری شخصیت عثمان کاوالا کی رہائی کا مطالبہ کرنے پر ملک چھوڑنے کو کہا گیا تھا۔ ترک اپوزیشن کارکن کاوالا کو 4 سال سے بغیر مقدمہ چلائے قید کیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک صدر طیب ایردوآن نے طویل اجلاس کے بعد اس فیصلے سے اپنی پسپائی کا جواز یہ پیش کیا کہ سفیر بھی اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے ۔ایردوآن نے سفیروں کے بیان کو ترکی میں آزاد عدلیہ کو نشانہ بنانے اور عدالت کی توہین قرار دیا۔کاروباری شخصیت عثمان کاوالا کو بین الاقوامی سطح پر مشہور نہیں تھے۔ انہیں شہرت اس وقت ملی جب ترک حکام نے انہیں 18 اکتوبر 2017 کو استنبول ایئرپورٹ پر حراست میں لیا۔

وہ معمول کے کاروباری دورے پر ملک سے باہر جا رہے تھے۔ اس کے بعد ان پر2016 میں ناکام بغاوت کی کوشش کا الزام عاید کیا گیا تھا۔تاہم ان الزامات نے انہیں وسیع شہرت فراہم کی کیونکہ امریکا، یورپی ممالک اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے کئی بار ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔64 سالہ کاوالا 2017 سے بغیر سزا کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور اسے 2013 کے گیزی مظاہروں اور 2016 میں بغاوت کی کوشش کے سلسلے میں متعدد الزامات کا سامنا ہے۔