کابل(رپورٹنگ آن لائن)افغانستان کی طالبان حکومت نے عشق آباد کو ترکمانستان۔ افغانستان۔ پاکستان۔ بھارت (تاپی)گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کا یقین دلایا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق تاپی منصوبے کی تکمیل کے بعد اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھلنے کی امیدیں ہیں۔ موجودہ دور کے شاہراہ ریشم قرار دیے جانے والے تاپی پروجیکٹ کو ابتدا سے ہی سیاسی، جغرافیائی اور سلامتی کے حوالے سے خطرات جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ترکمانستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تاپی منصوبے کی تکمیل کے عزم پر قائم ہے۔ترکمانستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ اواخر ہفتہ کو ترکمانستان حکومت کے ایک وفد نے افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ وفد نے دیگر امور کے ساتھ ساتھ تاپی منصوبے کے مستقبل پر بھی بات چیت کی تھی۔
بات چیت کے دوران افغان حکومت نے باہمی پروجیکٹوں پر کام دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ترکمانستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں افغانستان کے نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی کے حوالے سے کہاکہ ہم جس قدر جلد ممکن ہو دونوں ملکوں کے درمیان قومی منصوبوں کو شروع کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان منصوبوں کے لیے سیکورٹی سمیت تمام ضروری شرائط پوری کردی گئی ہیں۔ترکمانستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں افغانستان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کے حوالے سے بھی کہا گیا کہ ہم دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی پروجیکٹوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
ترکمانستان تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے اپنے تین حصے پہلے ہی مکمل کر چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سالانہ 33 ارب مکعب میٹر گیس فراہم کی جائے گی جبکہ سابق سوویت یونین کی اس ریاست کا چینی مارکیٹ پر انحصار کم ہو جائے گا جہاں اس وقت اس کی زیادہ تر برآمدات جا رہی ہیں۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ گیس پائپ لائن منصوبے کا باقی حصہ کب مکمل کیا جائے گا۔









