ممبئی (رپورٹنگ آن لائن) بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی ستمبر 2020 میں منظور ہونیوالے متنازع زرعی قوانین منسوخ کرنے پر مجبور ہوگئے جن کیخلاف کسانوں نے ایک برس تک ملک گیر طویل احتجاج کیا تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی قانون سازوں نے زرعی قانون کو منسوخ کر دیا ہے جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کیلئے ایک بڑی تبدیلی اور ان کی ناکامی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔زرعی قوانین کی منسوخی کا بل نریندر مودی کے ٹیلی ویژن پرقومی خطاب میں تینوں قوانین کو واپس لینے کے حیران کن فیصلے کے اعلان کے 10 روز بعد پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان بالا میں مختصر بحث کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔
احتجاج کرنے والے کسان گزشتہ برس نومبر سے دارالحکومت نئی دہلی کے باہر عارضی کیمپوں میں بیٹھ کر ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، انہیں خدشہ تھا کہ ان کی آمدنی میں بڑی کمی واقع ہو گی۔منسوخی بل کو باضابطہ طور پر نافذ کرنے سے پہلے صدر کی جانب سے دستخط کی ضرورت ہوگی لیکن کسانوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان کے مظاہرے جاری رہیں گے۔
ٹریکٹروں، جیپوں اور کاروں پر سوار ہزاروں پرجوش کسانوں نے سبز اور سفید جھنڈے لہرائے اور اپنی جیت کا جشن منایا لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات پورے نہیں کیے ہیں۔کسان رہنما راکیش ٹکائیت نے کہا کہ انہیں گندم اور چاول جیسی کچھ ضروری فصلوں کے لیے یقینی قیمتوں کی حکومتی یقین دہانیوں کی ضرورت ہے،یہ ایک ایسا نظام ہے جو 1960 کی دہائی میں بھارت کو خوراک کے ذخائر کو بڑھانے اور قلت کو روکنے میں مدد کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت، کسانوں کا احتجاج ختم کرنے پر غور کرنے سے پہلے ان مطالبات کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرے۔









