محمد جاوید قصوری 51

بچوں کے استحصال کا ترمیمی بل ،عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی داخلہ کی جانب سے پنجاب ڈیسیٹیٹیوٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ،ترمیمی بل 2025ء منظوری پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ترمیمی بل کا مقصد بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف سزائوں اور نفاذ کے نظام کو مضبوط بنا نا ہے مگر حقیقت میں 2004کے قانون میں چند دفعات میں تبدیلیاں کرکے قوم کو لالی پاپ دیا جا رہا ہے.

صوبے میں بے تحاشا قوانین پہلے سے ہی موجود ہیں ضرورت بس اتنی ہے کہ ان پر خلوص نیت کے ساتھ من وعن عمل کیا جائے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اگر سنجیدہ ہیں تو اپنی کارکردگی کو ٹھیک کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ترمیمی بل سے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور قانونی نفاذ کے نظام میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔قانون سازی سے بچوں کے ساتھ زیادتی، نظر اندازی اور استحصال کے کیسز میں کمی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں خواتین اور بچوں سے جنسی درندگی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

رواں سال کے پہلے 9ماہ میں خواتین، بچوں اور بچیوں سے جنسی درندگی کے 1164مقدمات درج ہوئے ہیںجو کہ حکومتی اور اس حوالے سے کام کرنے والے داروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریبا ً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، حکومت اپنے تمام اقدامات کے باوجود اس تعداد میں کمی نہیں کر سکی، مہنگائی بے روزگاری اور ناقص حکومتی پالیسیوں نے اس صورتحال کو پہلے سے زیادہ تشویشناک بنا دیا ہے۔

معصوم بچے مختلف ورکشاپ، کارخانوں اور دوکانوں پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ کسی بھی ملک و قوم کی ترقی کا راز صرف پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ ان پر کام کرنا ہے بد قسمتی سے ہر دور میں قانون سازی تو ہوتی رہی مگر عملاً کچھ نہیں ہوا ۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں جنسی استحصال کے واقعات میں کمی نہیں آرہی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں