ایکسائز ڈیپارٹمنٹ

بطور ڈی جی، جونئیر افسرایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو چلانے میں ناکام۔۔تبدیل کئے جانے کا امکان۔

شہبازاکمل جندران۔۔۔

رواں سال 17 اگست کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 19 کے افسر ڈاکٹر آصف طفیل کو ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب تعینات کیا گیا۔تاہم لگ بھگ 2 ماہ گزرنے کے باوجود افسر مذکور ڈیپارٹمنٹ کو چلانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا عہدہ گریڈ 20 کا ہے تاہم حکومت کی طرف سے فیور دیتے ہوئے گریڈ 19 کے ڈاکٹر آصف طفیل کو اس عہدے پر اپوائنٹ کیا گیا لیکن ڈیپارٹمنٹ کے معاملات ان کے ہاتھ سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں ۔
ڈاکٹر آصف طفیل نے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ڈیپارٹمنٹ کے 45 ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسروں اور 10 انسپکٹروں کا تبادلہ کیا۔جن میں سے 12 ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسروں اور 8 ایکسائز انسپکٹروں کے تبادلے انہیں واپس پہلی پوسٹوں پر کرنا پڑے۔

ادھر ڈیپارٹمنٹ میں پہلی بار ایک ریٹائرڈ ملازم کی دھاک پائی جاتی یے ۔جسے ڈی جی اور سیکرٹری سے بھی طاقتور قرار دیتے ہوئے ” انویسٹر ” کے نام سے پکارا جاتا ہے اور اہم ٹرانسفر پوسٹنگز کو اسی کا ” کارنامہ” گردانا جاتا ہے۔

جبکہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے اندر ہونے والے ڈائیریکٹروں کے 11 تبادلوں میں سے بھی اہم سیٹوں پر تبادلوں کو ” انویسٹر ” سے ہی منسوب کیا جارہا ہے۔

تاہم جہاں ایک طرف تبادلے رکوا کر یا کینسل کرواکے واپس آنے والے 12ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر،8 انسپکٹراور دو عدد ڈائیریکٹر ، “انویسٹر ” کے لئے ٹکر کے لوگ ثابت ہوئے ہیں اور اس کی اپروچ سے زیادہ Approachable نظر آئے ہیں۔ وہیں ان ملازمین کی تبادلوں کے چند ہی دنوں میں واپسی نے ڈائیریکٹر جنرل کی رٹ کو مزید کھوکھلا کر دیا ہے۔اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈاکٹر آصف طفیل کو جلد ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی ڈی جی شپ سے ہٹایا جاسکتا ہے۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ