ماسکو(رپورٹنگ آن لائن)مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے خطے کی نازک صورتِ حال کا فائدہ اٹھا کر بحیر احمر کو عسکری رنگ دینے یا اس کے ساحلوں پر ایسے ممالک کی فوجی موجودگی مسلط کرنے کی کوششوں سے خبردار کیا ہے جو اس کے ساحلی ملک نہیں ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مصر ہارن آف افریقہ کے ممالک کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے والی یا ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والی کسی بھی دھمکی کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔صدر السیسی نے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ تیسری روس-افریقہ سربراہ کانفرنس کے مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کا امن و استحکام براعظم کے عوام کی امنگوں کی تکمیل کے لیے بنیادی شرط ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی پیش رفت پر مصر کی گہری تشویش کا اظہار کیا۔سوڈان کے معاملے پر صدر نے سوڈان کی وحدت کو کمزور کرنے یا اس کی خودمختاری اور قومی اداروں کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف مصر کے مقف کا اعادہ کیا اور جنگ ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے اور ایسے سیاسی عمل کی حمایت کرنے کی اپیل کی جو خالص سوڈانی-سوڈانی مکالمے پر منتج ہو۔
مصری صدر نے سربراہ کانفرنس کے موقع پر اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کے ساتھ بھی ایک مذاکراتی نشست کی، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بات چیت ہوئی۔مصری ایوانِ صدر کے سرکاری ترجمان نے بتایا کہ ملاقات میں کشیدگی میں کمی اور مشرقِ وسطی میں استحکام کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا گیا اور روسی صدر نے خطے میں استحکام کے ستون کے طور پر مصر کے مرکزی کردار کی تعریف کی۔









