وقار یونس خان 16

بابر اعظم کیلئے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ ٹیم میں تنہا ہیں،وقار یونس

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری فاسٹ بولر وقار یونس نے بابر اعظم کی حمایت کرتے ہوئے قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن پر اہم سوالات اٹھا دئیے۔

تفصیلات کے مطابق وقار یونس نے بھارتی کرکٹ تجزیہ کار شبھنکر مشرا کی پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی۔اس پوڈکاسٹ میں انہوں نے بابر اعظم کو پاکستان کا سپر اسٹار قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ٹیم میں ان کے علاوہ ایسا کوئی نمایاں بیٹر دکھائی نہیں دیتا جس پر یکساں اعتماد کیا جا سکے۔سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ بابر اعظم کے لیے سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ ٹیم میں تنہا ہیں، اگر ان کے ساتھ 4 یا 5 بڑے نام بھی موجود ہوتے تو صورتِ حال مختلف ہو سکتی تھی اور بابر پر دبا ئوبھی کم ہوتا۔انہوں نے کہا کہ جب پوری ٹیم کی امیدیں صرف ایک بیٹر سے وابستہ ہوں اور ہر میچ میں اسی سے کارکردگی کی توقع کی جائے تو قدرتی طور پر اس کھلاڑی پر دبا ئوبڑھ جاتا ہے۔

وقار یونس نے پاکستان کی 90 کی دہائی کی ٹیم کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اس دور میں قومی ٹیم کے ٹاپ 6 میں شامل تمام بیٹرز اپنی الگ پہچان رکھتے تھے اور میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے تھے لیکن آج بابر اعظم کے علاوہ کتنے ایسے کھلاڑی ہیں جنہیں اسی طرح یاد کیا جا سکتا ہے؟انہوں نے اس موقع پر بھارت کے لیجنڈ بیٹر سچن ٹنڈولکر کی مثال بھی دی اور کہا کہ سچن بھی اپنے کیریئر میں کبھی مکمل طور پر تنہا نہیں تھے، ابتدا میں ان کے ساتھ سنجے منجریکر اور نوجوت سنگھ سدھو جیسے کھلاڑی موجود تھے جبکہ بعد میں راہول ڈریوڈ، سارو گنگولی، وی وی ایس لکشمن اور وریندر سہواگ جیسے بڑے بیٹرز نے ان کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعظم نے اپنے کیریئر کے آغاز میں اتنی شاندار کارکردگی دکھائی کہ شائقین کی توقعات غیر معمولی حد تک بڑھ گئیں، اب اگر وہ 4 یا 5 میچز میں رنز نہ بنا سکیں تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وقار یونس نے بابر اعظم کی صورتِ حال کا موازنہ بھارتی اسٹار بیٹر ویرات کوہلی سے کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی کھلاڑی سے ہر میچ میں سنچری، نصف سنچری یا بڑی اننگز کی توقع کی جائے تو چند میچز میں ناکامی بھی تنقید کی وجہ بن جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں