کراچی (رپورٹنگ آن لائن) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے جتنے بھی ارکان نے تحریک التواء پر اب تک بات کی ہے اس میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ صوبے کی بات نہیں کررہے ہیں.
یہ بات صاف اور کلئیر ہے کہ کوئی ایسا کام نہیں ہوگا کہ جس سے صوبہ سندھ کی تقسیم ہو یا ایک سے زائد حکومتیں ہوں۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہورہی ہے اور نا ہی کوئی پرانا نظام آرہا ہے۔ سب رجسٹرار کی ترقی پر کیا فیصلہ ہوا اس کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ اس پر میری رائے بڑی کلئیر ہے کہ جو ترقی لینا نہیں چاہتے ان کو ملازمت چھوڑ دینی چاہیے یا ترقی لے کر اپنی نوکری کرنی چاہیے۔ صوبہ سندھ میں کچے کی زمین بہت زیادہ ہے اور اس کا سروے ہونا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے جتنے بھی ارکان نے تحریک التواء پر اب تک بات کی ہے اس میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ صوبے کی بات نہیں کررہے ہیں بلکہ کچھ ممبران نے یہاں تک کہا ہے کہ سندھ ہماری ماں ہے اور اس کی تقسیم کیسے چاہ سکتے ہیں ، ساتھ ہی انتظامی یونٹس کا نام لے کر میرے خیال میں وہ کوئی ڈرامہ کرنا چاہتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ بات صاف اور کلئیر ہے کہ کوئی ایسا کام نہیں ہوگا کہ جس سے صوبہ سندھ کی تقسیم ہو یا ایک سے زائد حکومتیں ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ یہ ایک عجیب سی بات ہے جو آپ کہہ رہے ہیں کہ ایک ایسا اشیو جو ٹی وی چینلز پر زیر بحث ہے، سڑکوں پر زیر بحث ہے، اخبارات میں موضوع بنا ہوا ہے ہر جگہ اس پر بات ہورہی ہے، لیکن اسمبلی جس نے اس کا فیصلہ کرنا ہے وہاں بحث نہیں ہونی چاہیے۔
سعید غنی نے کہا کہ اسمبلی میں پہلے بھی اس اشیو پر بات ہوئی ہے، جس کے نتیجہ میں اسمبلی میں پہلے بھی چھ مرتبہ قراردادیں منظور ہوئی ہیں اور اسمبلی نے فیصلہ سنایا تھا کہ صوبہ سندھ کی اسمبلی صوبے کی کوئی تقسیم نہیں چاہتی ہے۔ اب اگر کسی کو چھ مرتبہ کے بعد بھی تسلی نہیں ہوئی ہے تو ساتویں مرتبہ بھی کریں گے، آٹھویں مرتبہ بھی کریں گے اور 100 بات بھی بحث کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہورہی ہے اور نا ہی کوئی پرانا نظام آرہا ہے، چند ترامیم کی بات سندھ کابینہ کے سامنے آئی تھی، جس پر بھی ایک کمیٹی بنی ہے اور کمیٹی دو چار روز میں اپنی تفص رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی اور اس کے بعد آئندہ کابینہ کے اجلاس میں اس پر بات ہوگی۔ البتہ اس نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہے بلکہ چھوٹی موٹی ترامیم ہیں جس سے یہ نظام مزید بہتر ہوگا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سب رجسٹرار کی ترقی پر کیا فیصلہ ہوا اس کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ اس پر میری رائے بڑی کلئیر ہے اس پر کہ جو ترقی لینا نہیں چاہتے ان کو ملازمت چھوڑ دینی چاہیے یا ترقی لے کر اپنی نوکری کرنی چاہیے نہ کہ آپ اپنی مرضی سے نوکری کریں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ صوبہ سندھ میں کچے کی زمین بہت زیادہ ہے اور اس کا سروے ہونا ضروری ہے کیونکہ کئی جگہ پر اس کا باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس سروے کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ کتنی زمین کہاں ہے اور اس پر کتنی زمین پر قبضہ ہے یا کتنی زمینوں پر گائوں گوٹھ بنے ہوئے ہیں، اس کے بعد کوئی فیصلہ کیا جاسکے گا۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کے جو ملازمین احتجاج کررہے ہیں یہ پْرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ احتجاج جس مقصد کے لیے کیا جارہا ہو وہ ان کا حق بنتا ہو۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے خاندان کی سپورٹ کے لئے قائم اینڈومنٹ فنڈز سے ان کی مالی مدد شروع کردی گئی ہے۔ اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ نے ایک حکم نامی جاری کیا ہے کہ چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے اور وہ تحقیقات کرے۔ یہ ایک تیسری کمیٹی ہے جو یہ تحقیقات کررہی ہے۔ البتہ پہلے جو ہم تحقیقات کروا چکیں ہیں اس میں جن 37 لوگوں کو اس کا زمہ دار قرار دیا گیا تھا ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔








