کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں انویسٹمنٹ کے نام پر شہریوں سے بڑے پیمانے پر مبینہ فراڈ کے معاملے میں ڈی جی نیب، چیئرمین نیب اور دیگر کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی، جس دوران درخواست گزاروں نے نیب کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی پراگریس رپورٹ پر اعتراضات جمع کرا دیے۔درخواست گزاروں نے نیب کی جانب سے معاملہ ایف آئی اے کو منتقل کرنے کے مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے 7 مئی 2026 کو ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کیس ایف آئی اے کو بھیجنے کی منظوری دی، جبکہ نیب نے دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر معاملہ ایف آئی اے کو ریفر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ نیب نے توہین عدالت کی درخواست میں اٹھائے گئے الزامات کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ نیب نے مخصوص الزامات کا جواب دینے کے بجائے دوبارہ دائرہ اختیار کا معاملہ اٹھایا، حالانکہ موجودہ معاملہ توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق ہے، مرکزی کیس کی کارروائی نہیں۔درخواست گزاروں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نیب کو توہین عدالت کی درخواست میں اٹھائے گئے الزامات کا براہ راست جواب دینا چاہیے تھا، تاہم نیب کی جانب سے جمع کرائی گئی پراگریس رپورٹ میں ان اعتراضات اور الزامات کا واضح جواب نہیں دیا گیا۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ایک ہزار سے زائد شہریوں کے ساتھ انویسٹمنٹ کے نام پر 15 ارب روپے سے زائد کا مبینہ فراڈ کیا گیا۔
ان کے مطابق نیب کی جانب سے معاملے کی باضابطہ تحقیقات نہیں کی گئیں اور متاثرین کے بیانات ریکارڈ کیے بغیر ہی تحقیقات مکمل کرلی گئیں۔درخواست گزاروں کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں سے فراڈ کے اس معاملے پر نیب اس سے قبل بھی پانچ مرتبہ ریفرنس دائر کرچکا ہے، جبکہ ملزمان کی جانب سے شہریوں کے ساتھ مبینہ فراڈ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد یہ قرار دیا کہ معاملے میں ریفرنس نہیں بنتا، جس پر درخواست گزاروں نے نیب کی جانب سے پراگریس رپورٹ جمع کرانے کے اقدام پر بھی اعتراض اٹھایا۔
دوسری جانب نیب نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ متعلقہ معاملہ نیب قوانین کے مطابق اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اسی بنیاد پر کیس ایف آئی اے کو ریفر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ نیب کی پراگریس رپورٹ پر ان کے اعتراضات کو مدنظر رکھتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست میں اٹھائے گئے الزامات کا براہ راست جواب طلب کیا جائے اور معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔









