بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)) عالمی چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی برادری کو آج مزید اختلافات کے بجائے اعتماد کی بحالی اور تعاون کے فروغ کی ضرورت ہے، تاکہ گلوبل گورننس عصرِ حاضر کے تقاضوں کا مؤثر جواب دے سکے۔ گلوبل گورننس فورم(شیونگ آن) 2026 “اعتماد اور تعاون کی بحالی: بدلتی ہوئی دنیا میں گلوبل گورننس کے نظام میں اصلاحات اور بہتری” کے موضوع پر منعقد ہو رہا ہے، جس میں 90 سے زائد ممالک کی سیاسی، علمی، کاروباری شخصیات سمیت ذرائع ابلاغ اور نوجوان نمائندے مکالمے اور تبادلۂ خیال میں شریک ہیں۔ فورم نے واضح پیغام دیا کہ اختلافات کے باوجود اتفاقِ رائے تلاش کرنا اور مشترکہ خدشات کی بنیاد پر قابلِ عمل حل وضع کرنا، گلوبل گورننس کو عملی اور مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ستمبر 2025 میں چین نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیا، جس میں خودمختاری کی مساوات، بین الاقوامی قانون کی بالادستی، کثیرالجہتی، عوام کو مرکزیت دینے اور عملی اقدامات پر مبنی نقطۂ نظر پر زور دیا گیا۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کے سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان اصولوں کو عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہے اور 60 فیصد سے زائد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ یہ انیشی ایٹو گلوبل گورننس میں مختلف ممالک کی شرکت کے لیے سمت متعین کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری کسی نئے نظام کی ازسرِنو تشکیل کے بجائے اختلافات کا احترام کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مشترکہ نکات پر اتفاق چاہتی ہے، تاکہ گلوبل گورننس کے نظام کو وسیع تر حمایت اور مؤثر عمل درآمد کی صلاحیت حاصل ہو۔
سروے کے مطابق، عالمی جواب دہندگان ترقی پذیر ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ ممالک کی ترقی میں چین کے کردار کو عمومی طور پر سراہتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ترقیاتی تجربات کے تبادلے جیسے شعبوں میں چین کے کردار کو خاص طور پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری صرف اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتی کہ گلوبل گورننس کا نظام کیسے کام کرتا ہے، بلکہ یہ بھی چاہتی ہے کہ اس سے ترقی کے مواقع پیدا ہوں اور عام لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ ترقی پذیر ممالک کی خود انحصار ترقی کی صلاحیت مضبوط بنانا نہ صرف مشترکہ ترقی کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے بلکہ گلوبل گورننس کو بہتر بنانے کا ایک ناگزیر حصہ بھی ہے۔








